بلوچستان ہائی کورٹ میں 14 اگست کے حوالے سے پرچم کشائی کی ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ، جسٹس کامران ملاخیل تھے۔
چیف جسٹس کامران ملاخیل نے قومی پرچم لہرایا
تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور قومی ترانے سے کیا گیا، جس کے بعد چیف جسٹس نے روایتی جوش و جذبے کے ساتھ قومی پرچم لہرایا۔ اس موقع پر وکلاء برادری اور عدالتی عملے کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی۔
قائداعظم نے 1947 میں ایک عظیم اور درست فیصلہ کیا، چیف جسٹس
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس کامران ملاخیل کا کہنا تھا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے 1947 میں ایک عظیم اور درست فیصلہ کیا۔ پاکستان ایک خوش قسمت ملک ہے جسے ہم نے دلیل اور آئینی جدوجہد کے ذریعے حاصل کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس ملک کی جغرافیائی، نظریاتی اور مادی حدود کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
حقیقی آزادی خود غرضی اور بدعنوانی سے نجات میں ہے
چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں کہا کہ حقیقی آزادی تب ہی ممکن ہے جب ہم خود غرضی، بدعنوانی اور اقربا پروری جیسی لعنتوں سے نجات حاصل کریں۔ ہمیں عالمی سطح پر انصاف کے معیار پر پورا اترنا ہوگا۔
انہوں نے نظامِ عدلیہ کی بہتری کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وکلاء پر زور دیا کہ وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہ برتیں، کیونکہ سائلین عدالتوں کا رخ ناانصافی کے ازالے کے لیے کرتے ہیں۔
بلوچستان اور پاکستان کے عوام کو یومِ آزادی کی مبارکباد
چیف جسٹس نے بلوچستان اور پاکستان کے تمام عوام کو یومِ آزادی کی مبارکباد پیش کی اور ملک کی امن و ترقی اور سلامتی کے لیے دعا کی۔
تقریب کے اختتام پر چیف جسٹس نے تقریب میں موجود بچوں اور بچیوں میں تحائف بھی تقسیم کئے گئے۔



