Facebook YouTube TikTok WhatsApp
GOB

بی ٹیوٹا نے جعلی ورک پرمٹس کے الزامات مسترد کر دیے، معاملہ قانونی کارروائی کے لیے اینٹی کرپشن کو منتقل

✍️ Nazrban Balochistan 📅 17 Aug 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

بی ٹیوٹا نے بلیک میلر گروپ کی جانب سے جعلی ورک پرمٹس سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ادارہ خود ورک پرمٹ جاری نہیں کرتا، جبکہ مشکوک دستاویزات امیدواروں کو براہِ راست ای میل کے ذریعے موصول ہوئی تھیں۔

جعلی ورک پرمٹس سے بی ٹیوٹا کا لاتعلقی کا اظہار

ترجمان بی ٹیوٹا کے مطابق زیرِ بحث مشکوک ورک پرمٹس ادارے کو اعتماد میں لیے بغیر امیدواروں کو براہِ راست ای میل کیے گئے تھے۔ معاملہ سامنے آنے پر دسمبر 2025 میں متعلقہ فرم سے وضاحت طلب کی گئی، جس نے بھی مذکورہ ورک پرمٹس کو جعلی قرار دیا۔

ترجمان نے واضح کیا کہ ورک پرمٹ جاری کرنا متعلقہ فرم کی ذمہ داری ہے، جبکہ بی ٹیوٹا صرف تصدیق شدہ ورک ویزہ حاصل ہونے کے بعد اپنے طے شدہ ضوابط کے مطابق مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔

30 ہزار سے زائد نوجوانوں کو عالمی روزگار کے لیے تیار کرنے کا منصوبہ

ترجمان کے مطابق حکومت بلوچستان اور وزیراعلیٰ بلوچستان کا وژن نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ معیاری فنی تربیت فراہم کرکے انہیں باعزت اور محفوظ روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

وزیراعلیٰ یوتھ سکل ڈویلپمنٹ اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروگرام صرف چند سو نوجوانوں تک محدود نہیں بلکہ 30 ہزار سے زائد ہنرمند نوجوانوں کو عالمی روزگار کی مسابقتی مارکیٹ کے لیے تیار کرنے کا جامع منصوبہ ہے۔

B-TEVTA is working to equip Balochistan’s youth with skills for safe and dignified employment opportunities.

امیدواروں کو غیر مصدقہ دستاویزات سے محتاط رہنے کی ہدایت

ترجمان نے کہا کہ جعلی ورک پرمٹس کی اطلاع ملتے ہی امیدواروں کو بارہا متنبہ کیا گیا کہ متعلقہ ادارے سے تصدیق کے بغیر کسی بھی ای میل، ورک پرمٹ یا آفر لیٹر پر اعتماد نہ کریں اور اپنے ذاتی کوائف بھی فراہم نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ اور فرضی دستاویزات کی بنیاد پر بی ٹیوٹا اور حکومتی پروگرام کو بدنام کرنا نوجوانوں کے مفادات کے خلاف ہے۔ حکومت بلوچستان نوجوانوں کے عزت، وقار اور تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

چیف منسٹر انسپکشن ٹیم کی تحقیقات مکمل، اینٹی کرپشن میں کارروائی جاری

ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایات پر چیف منسٹر انسپکشن ٹیم نے معاملے کی شفاف تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کر دی ہے، جس کی روشنی میں اینٹی کرپشن ادارہ مزید قانونی کارروائی کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی کنسلٹنٹ فرم کی مبینہ بے ضابطگیوں سے متاثر ہونے والے نوجوانوں کی طرح بی ٹیوٹا بھی اس معاملے میں متاثرہ فریق ہے، کیونکہ حکومت بلوچستان نے منصوبے پر خطیر وسائل خرچ کیے ہیں۔ ذمہ دار عناصر کا تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق سزا دلانے کے لیے کارروائی جاری ہے۔

نوجوانوں پر تشدد کے الزامات مسترد

ترجمان نے بی ٹیوٹا دفتر میں نوجوانوں پر تشدد کے الزامات کو بھی بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کے وفود ادارے میں آتے رہے، ان کے مسائل سنے گئے اور انہیں حکام سے ملاقات کا موقع بھی عزت و احترام کے ساتھ فراہم کیا گیا۔

ترجمان نے کہا کہ گمراہ کن الزامات لگانے والے عناصر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ ہے۔

ڈائریکٹ ایمپلائمنٹ اور QTECH پروگرام بھی جاری

ترجمان کے مطابق حکومت بلوچستان نے نوجوانوں کی سہولت کے لیے ڈائریکٹ ایمپلائمنٹ پروگرام شروع کیا ہے، جبکہ QTECH کے تحت ایک ہزار نوجوانوں کو جدید آئی ٹی اور تکنیکی علوم کی عالمی معیار کی تربیت فراہم کرنے کا پروگرام بھی جاری ہے۔

ان پروگراموں کا مقصد نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرکے باعزت روزگار کے قابل بنانا ہے۔

خلیجی ممالک میں روزگار کے لیے قانونی طریقہ کار پر زور

ترجمان نے بتایا کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں روزگار حاصل کرنے والے نوجوانوں کے ساتھ بی ٹیوٹا مسلسل رابطے میں ہے اور وہاں درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک روزگار کا عمل متعلقہ ممالک کے قوانین، ویزا کوٹے اور کمپنیوں کی ضروریات سے منسلک ہوتا ہے، اس لیے ہر مرحلے پر قانونی اور شفاف طریقہ کار اختیار کرنا ضروری ہے۔

ترجمان نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ غیر مصدقہ ورک پرمٹس، آفر لیٹرز اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات پر یقین کرنے کے بجائے متعلقہ ادارے سے لازمی تصدیق کریں۔

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں