Facebook YouTube TikTok WhatsApp
بلوچستان

سورینج کوئلہ کان حادثہ: 11 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئیں، جاں بحق افراد کے ورثا کے لیے 5 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان

✍️ Nazrban Balochistan 📅 31 Jul 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

سورینج کوئلہ کان حادثے میں 11 کان کن جاں بحق ہوگئے، حکومت بلوچستان نے ورثا کے لیے معاوضے، شفاف تحقیقات اور کان کنی میں حفاظتی اقدامات سخت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ریسکیو آپریشن تیز کر دیا ہے۔

ریسکیو آپریشن دشوار حالات میں بھی جاری، مزید مزدوروں تک رسائی کی کوششیں

کوئٹہ: سورینج میں کوئلہ کان کے افسوسناک حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ اب تک 11 کان کنوں کی لاشیں کان سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ ریسکیو ٹیمیں انتہائی دشوار حالات کے باوجود کان میں پھنسے دیگر مزدوروں تک پہنچنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔ امدادی کارروائیوں میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی ہدایات پر ریسکیو آپریشن تیز، حکومت لمحہ بہ لمحہ نگرانی کر رہی ہے

صوبائی وزیر مائنز اینڈ منرلز میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات پر ریسکیو آپریشن کو مزید تیز کیا گیا ہے۔ حکومت بلوچستان امدادی سرگرمیوں کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کر رہی ہے اور ریسکیو آپریشن میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔

جاں بحق کان کنوں کے ورثا کو 5 لاکھ، زخمیوں کو 3 لاکھ روپے معاوضہ

میر شعیب نوشیروانی نے اعلان کیا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے ہر کان کن کے لواحقین کو فی کس 5 لاکھ روپے جبکہ زخمی ہونے والے افراد کو فی کس 3 لاکھ روپے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے اور ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔

شفاف تحقیقات اور کان کنی میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کرنے کا فیصلہ

صوبائی وزیر نے کہا کہ حادثے کی تمام پہلوؤں سے شفاف تحقیقات کرائی جائیں گی تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بلوچستان میں کان کنی کے شعبے میں حفاظتی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے اور مستقبل میں ایسے افسوسناک سانحات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات مزید مؤثر بنائے جائیں گے۔

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں