Facebook YouTube TikTok WhatsApp
صحت

معدہ اور دماغ کا تعلق: جسم کا ’دوسرا دماغ‘ کیا واقعی موجود ہے؟

✍️ Nazrban Balochistan 📅 12 Sep 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

اینٹرک نروس سسٹم ہاضمے کو خودکار طور پر کنٹرول کرتا ہے، جبکہ گٹ مائیکرو بائیوم اور دماغ کے درمیان دوطرفہ رابطہ انسانی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے

کیا کبھی شدید گھبراہٹ کے دوران آپ نے اپنے پیٹ میں بے چینی محسوس کی ہے؟ یا کسی پریشانی کے وقت بھوک میں کمی یا معدے میں عجیب کیفیت کا سامنا کیا ہے؟ سائنس بتاتی ہے کہ یہ محض اتفاق نہیں۔ انسانی نظامِ ہاضمہ اور دماغ کے درمیان مسلسل دوطرفہ رابطہ موجود ہے جسے گٹ برین ایکسس (Gut-Brain Axis) کہا جاتا ہے۔

اسی نظام کی پیچیدگی کے باعث نظامِ ہاضمہ میں موجود اینٹرک نروس سسٹم (Enteric Nervous System) کو عام طور پر جسم کا ’’دوسرا دماغ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

اینٹرک نروس سسٹم کیا ہے؟

اینٹرک نروس سسٹم معدے اور آنتوں کی دیواروں میں موجود اعصابی خلیوں کا ایک پیچیدہ نیٹ ورک ہے۔ اس کا بنیادی کام ہاضمے کے مختلف مراحل کو مربوط کرنا ہے۔

یہ نظام خوراک کی حرکت، ہاضمے کے عمل اور بعض کیمیائی مادوں کے اخراج سمیت متعدد افعال کو بڑی حد تک خودکار طریقے سے منظم کرتا ہے۔ تاہم اسے انسانی دماغ کا متبادل سمجھنا درست نہیں؛ ’’دوسرا دماغ‘‘ ایک تشبیہی اصطلاح ہے۔

معدہ اور دماغ ایک دوسرے سے کیسے جڑے ہیں؟

دماغ اور نظامِ ہاضمہ کے درمیان رابطے میں اعصابی، ہارمونی اور مدافعتی راستے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ویگس نرو (Vagus Nerve) اس رابطے کا ایک اہم حصہ ہے، جس کے ذریعے جسم کے اندرونی حالات سے متعلق سگنلز دماغ تک پہنچتے ہیں۔

اسی دوطرفہ رابطے کی وجہ سے ذہنی دباؤ اور جذباتی کیفیت نظامِ ہاضمہ پر اثر انداز ہوسکتی ہے، جبکہ معدے اور آنتوں کی کیفیت بھی دماغی اور جذباتی صحت سے متعلق بعض عوامل پر اثر ڈال سکتی ہے۔

گٹ مائیکرو بائیوم کا اہم کردار

انسانی آنتوں میں کھربوں کی تعداد میں مختلف اقسام کے جراثیم اور دیگر خردبینی جاندار موجود ہوتے ہیں، جنہیں مجموعی طور پر گٹ مائیکرو بائیوم (Gut Microbiome) کہا جاتا ہے۔

یہ مائیکرو بائیوم ہاضمے، مدافعتی نظام اور جسم میں مختلف کیمیائی عمل میں کردار ادا کرتا ہے۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آنتوں کے مائیکرو بائیوم اور دماغ کے درمیان تعلق موجود ہے، تاہم اس شعبے میں بہت سے سوالات پر تحقیق اب بھی جاری ہے۔

سیروٹونین اور نظامِ ہاضمہ

سیروٹونین ایک اہم کیمیائی مادہ ہے جو اعصابی نظام کے ساتھ ساتھ نظامِ ہاضمہ میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جسم میں موجود سیروٹونین کا بڑا حصہ آنتوں سے متعلق خلیوں میں بنتا ہے، جہاں یہ بنیادی طور پر ہاضمے اور آنتوں کی حرکت سے متعلق افعال میں کردار ادا کرتا ہے۔

یہ کہنا درست نہیں کہ آنتوں میں بننے والا سیروٹونین براہِ راست ’’خوشی کا ہارمون‘‘ بن کر دماغ کو کنٹرول کرتا ہے۔ دماغ اور آنتوں کے درمیان تعلق اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

خوراک، نیند اور ذہنی دباؤ کا تعلق

متوازن غذا، مناسب فائبر، پھل، سبزیاں، دالیں اور مکمل اناج مجموعی طور پر آنتوں کی صحت کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں۔ اسی طرح مناسب نیند اور ذہنی دباؤ کو کم کرنا بھی صحت مند طرزِ زندگی کا اہم حصہ ہے۔

دوسری جانب انتہائی پراسیس شدہ غذاؤں، اضافی چینی اور غیر متوازن خوراک کا زیادہ استعمال مجموعی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

اپنے ’دوسرے دماغ‘ کا خیال کیسے رکھیں؟

آنتوں اور مجموعی صحت کو بہتر رکھنے کے لیے چند سادہ عادات اپنائی جا سکتی ہیں:

روزمرہ خوراک میں پھل، سبزیاں اور فائبر شامل کریں۔

مناسب مقدار میں پانی پئیں۔

متوازن اور متنوع غذا استعمال کریں۔

انتہائی پراسیس شدہ غذاؤں کا استعمال محدود کریں۔

باقاعدہ جسمانی سرگرمی کو معمول بنائیں۔

نیند کا مناسب دورانیہ برقرار رکھیں۔

مسلسل ذہنی دباؤ کی صورت میں اسے نظرانداز نہ کریں۔

صحت کا ایک اہم پیغام

’’گٹ برین ایکسس‘‘ جدید طبی تحقیق کا ایک دلچسپ شعبہ ہے جو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ انسانی جسم کے مختلف نظام ایک دوسرے سے کتنے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔

اگرچہ معدے کو لفظی معنوں میں ’’دوسرا دماغ‘‘ کہنا درست نہیں، لیکن اینٹرک نروس سسٹم اور دماغ کے درمیان پیچیدہ رابطہ اس بات کی یاد دہانی ضرور کراتا ہے کہ اچھی صحت کے لیے جسم اور ذہن دونوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

Gut-Brain Connection Explained: How the Body’s “Second Brain” Affects Digestion and Overall Health

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں