وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے تینوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں اور خطے میں اتحاد و امن کا پیغام گیا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی عرب کے وزیر ماحولیات، پانی و زراعت انجینئر عبدالرحمن بن عبدالمحسن الفضلی نے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے سعودی وزیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
اقتصادی اور زرعی تعاون بڑھانے پر اتفاق
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب اسٹریٹجک شراکت دار ہیں اور اب دونوں ممالک کو اقتصادی اور زرعی تعلقات مزید گہرے کرنے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ دیرینہ دوستی کو مضبوط اور باہمی مفاد پر مبنی تجارتی و سرمایہ کاری شراکت داری میں تبدیل کیا جاسکے۔
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان جاری مثبت روابط پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے خصوصاً پاکستان سے سعودی عرب کو زرعی مصنوعات کی برآمدات میں پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا۔
Pakistan and Saudi Arabia aim to expand cooperation in agriculture, water management, food security, and trade.
زرعی شعبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور
ملاقات میں پاکستان میں زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی، تحقیق و ترقی اور پانی کے وسائل کے زیادہ مؤثر استعمال کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ پاکستانی زرعی ماہرین کا وفد جلد ریاض کا دورہ کرے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت کو آگے بڑھایا جاسکے اور زرعی شراکت داری کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔
سعودی عرب کا تعاون مزید بڑھانے کا عزم
سعودی وزیر ماحولیات، پانی و زراعت نے وزیراعظم اور ان کے وفد کی جانب سے پرتپاک میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور زراعت، پانی اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون مزید گہرا کرنے کے سعودی عرب کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقات میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، محمد اورنگزیب، عطا تارڑ، جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق ملک، جنید انور چوہدری، ڈاکٹر سید توقیر شاہ اور بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی طارق فاطمی سمیت اعلیٰ سرکاری حکام بھی موجود تھے۔



