Facebook YouTube TikTok WhatsApp
پاکستان

پاکستان کے سرکاری قرضوں میں 10 سال کے دوران 340 فیصد اضافہ

✍️ Nazrban Balochistan 📅 05 Oct 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

اسلام آباد: پاکستان کے سرکاری قرضوں میں گزشتہ 10 سال کے دوران 340 فیصد کا تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد جون 2026 تک سرکاری قرضوں کا مجموعی حجم 86 ہزار 700 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

10 سال میں سرکاری قرضوں میں 67 ہزار ارب روپے کا اضافہ

وفاقی وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق جون 2016 میں پاکستان کے سرکاری قرضوں کا حجم 19 ہزار 700 ارب روپے تھا، جو جون 2026 تک بڑھ کر 86 ہزار 700 ارب روپے ہوگیا۔ اس طرح 10 سال کے دوران سرکاری قرضوں میں 67 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

مقامی اور غیر ملکی قرضوں کی تفصیلات

رپورٹ کے مطابق جون 2026 تک مجموعی سرکاری قرضوں میں 59 ہزار 400 ارب روپے مقامی جبکہ 27 ہزار 300 ارب روپے غیر ملکی قرضہ شامل تھا۔

جون 2016 میں مقامی سرکاری قرضہ 13 ہزار 600 ارب روپے جبکہ غیر ملکی سرکاری قرضہ 6 ہزار 100 ارب روپے تھا۔

2017 سے قرضوں میں مسلسل اضافہ

وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق جون 2017 تک مجموعی سرکاری قرضہ 21 ہزار 400 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، جو جون 2018 تک بڑھ کر 24 ہزار 900 ارب روپے ہوگیا۔

جون 2019 میں سرکاری قرضوں کا حجم 32 ہزار 700 ارب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ جون 2020 تک یہ بڑھ کر 36 ہزار 400 ارب روپے ہوگیا۔

رپورٹ کے مطابق جون 2021 تک پاکستان کے مجموعی سرکاری قرضوں کا حجم مزید بڑھ کر 39 ہزار 900 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔

10 سال میں قرضوں کا حجم کئی گنا بڑھ گیا

وزارت خزانہ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان کے سرکاری قرضوں میں مسلسل اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں مجموعی قرضوں کا حجم جون 2016 کے 19 ہزار 700 ارب روپے سے بڑھ کر جون 2026 میں 86 ہزار 700 ارب روپے ہوگیا۔

اعداد و شمار کے مطابق 10 سال کے دوران سرکاری قرضوں میں 67 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

Pakistan’s public debt has surged by 340% in 10 years, rising by Rs67 trillion to Rs86.7 trillion by June 2026, according to the Finance Ministry report.

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں
↑