پاکستان میں بچوں کی آن لائن سیفٹی پر پی ٹی اے کی نئی ایڈوائزری
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کی آن لائن پرائیویسی، سائبر سیکیورٹی اور محفوظ ڈیجیٹل سرگرمیوں کو یقینی بنانے کے لیے ذمہ دارانہ انٹرنیٹ استعمال کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کی آن لائن سرگرمیوں پر مؤثر نگرانی رکھیں۔
پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ عوامی ہدایت کے مطابق والدین انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور فیس بک سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دستیاب Parental Controls اور عمر کے مطابق Content Filters استعمال کریں تاکہ بچوں کو نامناسب، نقصان دہ اور غیر موزوں مواد سے محفوظ رکھا جا سکے۔
سائبر بُلیئنگ اور آن لائن ہراسانی سے بچوں کو کیسے محفوظ رکھا جائے؟
پی ٹی اے نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بچوں سے سائبر بُلیئنگ، آن لائن ہراسانی، جعلی اکاؤنٹس اور دیگر ڈیجیٹل خطرات کے بارے میں باقاعدگی سے گفتگو کریں۔ بچوں کو نقصان دہ آن لائن رویوں کی پہچان، مشکوک سرگرمیوں سے بچاؤ اور ایسے واقعات کی متعلقہ پلیٹ فارمز پر رپورٹنگ کے طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا جائے۔
سوشل میڈیا پر ذاتی معلومات شیئر کرنے سے گریز کی ہدایت
اتھارٹی نے والدین کو بچوں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی نامناسب مواد یا غیر محفوظ روابط کی بروقت نشاندہی کریں۔ ساتھ ہی بچوں کو یہ شعور دیا جائے کہ وہ اپنی ذاتی معلومات، موجودہ مقام (Location)، تصاویر، فون نمبر، اسکول کی معلومات یا دیگر حساس معلومات آن لائن شیئر نہ کریں تاکہ ان کی پرائیویسی محفوظ رہے۔
پی ٹی اے کی سائبر سیکیورٹی ایڈوائزری: حساس معلومات آن لائن محفوظ نہ کریں
پی ٹی اے نے اپنی ڈیجیٹل آگاہی مہم کے تحت عوام کو بھی ہدایت کی ہے کہ مالی، طبی اور دیگر حساس معلومات آن لائن پلیٹ فارمز یا مشترکہ استعمال ہونے والے کمپیوٹرز اور موبائل ڈیوائسز پر محفوظ یا شیئر نہ کریں، کیونکہ ایسا کرنا سائبر حملوں، ڈیٹا چوری اور دیگر آن لائن خطرات کا سبب بن سکتا ہے۔



