بچیوں کے حقوق کے تحفظ، خواتین کے بااختیار بنانے اور بنیادی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق
اسلام آباد: بلوچستان کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (BCSW) اور اسلامک ریلیف نے بلوچستان میں کم عمری اور بچپن کی شادیوں کی روک تھام، بچیوں کے حقوق کے تحفظ اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
اس سلسلے میں BCSW کی چیئرپرسن کرن بلوچ نے اسلام آباد میں اسلامک ریلیف کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے۔ تقریب میں کمیشن کے رکن مشتاق مینگل بھی موجود تھے۔
خواتین اور بچیوں کے حقوق پر مشترکہ تعاون
مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ادارے خواتین اور بچیوں کے حقوق کے تحفظ سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیں گے، جبکہ انہیں بنیادی سہولیات اور مواقع تک بہتر رسائی فراہم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔
کم عمری کی شادی تعلیم اور مستقبل کے لیے چیلنج
چیئرپرسن BCSW کرن بلوچ نے کہا کہ کم عمری کی شادی ایک اہم سماجی مسئلہ ہے جو بچیوں کی تعلیم، صحت، تحفظ اور مستقبل کے مواقع کو متاثر کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے قانون سازی کے ساتھ ساتھ معاشرتی آگاہی، والدین اور کمیونٹی کی شمولیت، ادارہ جاتی تعاون اور مؤثر پالیسی اقدامات بھی ضروری ہیں۔
سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم
کرن بلوچ نے کہا کہ BCSW خواتین اور بچیوں کے حقوق کے تحفظ، صنفی مساوات کے فروغ اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اپنے آئینی و قانونی مینڈیٹ کے تحت مؤثر کردار ادا کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامک ریلیف کے ساتھ تعاون بلوچستان میں خواتین اور بچیوں کو درپیش مسائل کے حل کی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
چیئرپرسن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ BCSW سرکاری اداروں، غیر سرکاری تنظیموں، ترقیاتی شراکت داروں اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر کام کو مزید وسعت دے گا تاکہ بچیوں کے حقوق، تعلیم کے تسلسل اور خواتین کے لیے باوقار زندگی کے مواقع کو فروغ دیا جاسکے۔
BCSW and Islamic Relief Sign MoU to Combat Child Marriage and Empower Women and Girls in Balochistan.



