کوئٹہ: بلوچستان سینٹر آف ایکسیلنس، حکومتِ بلوچستان، سسٹینیبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن اور برطانوی ہائی کمیشن اسلام آباد کے اشتراک سے کوئٹہ میں پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں بلوچستان میں انسدادِ دہشت گردی، دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام اور پُرتشدد انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے قانون ساز اور ادارہ جاتی تعاون مضبوط بنانے پر غور کیا گیا۔
تقریب کی مہمانِ خصوصی صوبائی وزیرِ تعلیم راحیلہ حمید خان درانی تھیں، جبکہ ممبر بلوچستان اسمبلی انجینیئر زمرک خان اچکزئی، ممبر بلوچستان اسمبلی شاہدہ رؤف، محکمہ داخلہ، سوشل ویلفیئر، وومن ویلفیئر، کالجز اور دیگر محکموں کے افسران سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔
نوجوانوں کو مکالمے میں شامل کرنے کی ضرورت
صوبائی وزیرِ تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے دہشت گردی اور انتہاپسندی کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے بالخصوص نوجوانوں کے ساتھ ان موضوعات پر مسلسل مکالمہ انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بامقصد گفتگو کے ذریعے زیادہ سے زیادہ افراد کو پُرامن معاشرے کے قیام کی کوششوں کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔
ترقی اور مضبوط صوبے، مضبوط وفاق کی بنیاد
ممبر بلوچستان اسمبلی انجینیئر زمرک خان اچکزئی نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کی وجوہات کو گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی ترقی پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے، کیونکہ مضبوط صوبے ہی مضبوط وفاق کی بنیاد بنتے ہیں۔
قانون سازی اور گڈ گورننس پر زور
ممبر بلوچستان اسمبلی شاہدہ رؤف نے کہا کہ موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پارلیمنٹرینز کو انسدادِ دہشت گردی سے متعلق قوانین پر توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے امن کے لیے تمام فریقین کی مشترکہ کوششوں کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ گڈ گورننس، بنیادی سہولیات اور دیگر غیر عسکری اقدامات بھی اہم ہیں۔
خواتین، بچوں اور نوجوانوں کی شمولیت اہم قرار
دیگر مقررین نے کہا کہ انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت، اداروں اور معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ خواتین کی شمولیت، بچوں کی مثبت تربیت، نوجوانوں کے لیے ہنرمندانہ مواقع، اساتذہ کی تربیت اور فکری و اخلاقی تعلیم کو بھی اہم قرار دیا گیا۔
پالیسی ڈائیلاگ کے اختتام پر سیاسی و جمہوری مکالمے کے فروغ، ادارہ جاتی تعاون میں اضافے اور صوبوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
Policy dialogue in Quetta focuses on counterterrorism, preventing terrorism financing, combating violent extremism, youth engagement and institutional cooperation in Balochistan.



