کوئٹہ کی باصلاحیت خاتون باکسر عابدہ بتول نے محدود سہولیات اور مشکلات کے باوجود قومی سطح پر اپنی پہچان بنالی، جبکہ اب وہ پاکستان ٹائٹل اور بین الاقوامی مقابلوں میں ملک کی نمائندگی کے لیے پُرعزم ہیں۔
شوق سے شروع ہونے والا سفر قومی سطح تک پہنچ گیا
عابدہ بتول نے بتایا کہ انہوں نے باکسنگ کا آغاز کالج کے دور میں صرف شوق اور تفریح کے لیے کیا تھا، تاہم باکسنگ میں سلور میڈل حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اسے سنجیدگی سے اپنایا اور قومی سطح پر کھیلنے اور بلوچستان کی نمائندگی کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس سے قبل وہ مکسڈ مارشل آرٹس، کک باکسنگ اور ووشو میں بھی قومی اور بین الاقوامی سطح پر حصہ لے چکی ہیں۔ اپنی مسلسل محنت اور کارکردگی کے باعث وہ پاکستان کی نمبر ون خاتون باکسر بننے میں کامیاب ہوئی ہیں۔
خواتین کھلاڑیوں کو مشکلات کا سامنا، عابدہ بتول
عابدہ بتول نے کہا کہ بطور خاتون کھلاڑی انہیں کھیل کے میدان میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں ابتدا میں خاندان کی جانب سے عدم تعاون، پروفیشنل کوچ کی عدم دستیابی اور اسپانسرشپ کی کمی شامل تھی۔
انہوں نے بتایا کہ جب ان کے والدین نے ان کی صلاحیت اور ٹیلنٹ کو دیکھا تو انہوں نے ان کی بھرپور حوصلہ افزائی اور حمایت شروع کردی۔ عابدہ بتول کا کہنا تھا کہ وہ خود پر یقین رکھتی ہیں اور تمام مشکلات کے باوجود اپنے اہداف کے حصول کے لیے کوشش جاری رکھیں گی۔
Female athletes need greater opportunities, professional coaching, sponsorship and government support to represent Pakistan internationally.
پاکستان ٹائٹل اور بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کا عزم
عابدہ بتول نے بتایا کہ ان کا اگلا ہدف پشاور میں قومی سطح پر پاکستان ٹائٹل کے لیے مقابلہ کرنا ہے، جس کے بعد وہ بین الاقوامی سطح پر بینکاک میں ہونے والے مقابلوں میں شرکت کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ خواتین کھلاڑیوں کو بہتر سہولیات، پروفیشنل کوچنگ، اسپانسرشپ اور دیگر ضروری وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ملک اور بلوچستان کا نام روشن کرسکیں۔



