تحریر: اِرم سہیل
لیفٹ ہینڈرز ڈے کا آغاز کیسے ہوا؟
دنیا میں زیادہ تر لوگ دائیں ہاتھ سے کام کرتے ہیں، تاہم تقریباً 7 سے 10 فیصد افراد بائیں ہاتھ کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسی انفرادیت کو اجاگر کرنے کے لیے ہر سال 13 اگست کو International Left Handers Day منایا جاتا ہے۔
یہ دن پہلی مرتبہ 1976 میں Left-handers Club کے بانی ڈین آر کیمبل نے منایا تھا۔ اس دن کا مقصد بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد کی انفرادیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ انہیں دائیں ہاتھ کو ترجیح دینے والی دنیا میں درپیش مشکلات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا بھی ہے۔
بائیں ہاتھ والوں کے لیے روزمرہ زندگی کے چیلنجز
روزمرہ زندگی کی بہت سی اشیا دائیں ہاتھ استعمال کرنے والوں کو مدنظر رکھ کر بنائی جاتی ہیں۔ ڈیسک، قینچی، کین اوپنرز، کچن کے بعض آلات اور دیگر چیزیں بائیں ہاتھ سے کام کرنے والوں کے لیے بعض اوقات غیر آرام دہ ہوسکتی ہیں۔
تعلیمی اداروں میں بائیں ہاتھ سے لکھنے والے بچوں کو بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ ماضی میں بعض معاشروں میں بچوں کو دائیں ہاتھ سے لکھنے پر مجبور کیا جاتا رہا، حالانکہ بائیں ہاتھ کا استعمال انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ اس لیے بچوں کو اپنی قدرتی ترجیح کے مطابق کام کرنے کی آزادی دینا ضروری ہے۔
کیا بائیں ہاتھ والے زیادہ ذہین ہوتے ہیں؟
بائیں ہاتھ سے کام کرنے والوں کے زیادہ ذہین یا تخلیقی ہونے کا تصور عام ہے، لیکن اس دعوے کے لیے کافی مضبوط سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں۔
تحقیق سے البتہ یہ معلوم ہوا ہے کہ ہاتھ کے استعمال اور دماغی تنظیم کے درمیان تعلق موجود ہے۔ یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے محققین کی ایک تحقیق میں بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد کے دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان روابط کا جائزہ لیا گیا۔
تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بائیں ہاتھ والا شخص لازماً زیادہ ذہین یا تخلیقی ہوتا ہے۔ انسانی صلاحیتیں متعدد عوامل کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
دنیا کی مشہور بائیں ہاتھ سے کام کرنے والی شخصیات
بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے افراد نے سیاست، موسیقی، سائنس اور کھیل سمیت مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ سابق امریکی صدور بل کلنٹن اور باراک اوباما جبکہ گلوکار جسٹن بیبر بھی بائیں ہاتھ سے کام کرنے والی معروف شخصیات میں شامل ہیں۔
البرٹ آئن اسٹائن کو بھی اکثر بائیں ہاتھ سے کام کرنے والا بتایا جاتا ہے، تاہم اس حوالے سے تاریخی شواہد مکمل طور پر حتمی نہیں ہیں۔
پاکستان کے مشہور Left-handed کرکٹرز
پاکستانی کرکٹ میں بھی بائیں ہاتھ سے کھیلنے والے کئی معروف کھلاڑی گزرے ہیں۔ وسیم اکرم دنیا کے عظیم ترین بائیں ہاتھ کے فاسٹ باؤلرز میں شمار ہوتے ہیں، جبکہ سعید انور پاکستان کے عظیم اوپننگ بلے بازوں میں شامل ہیں۔
فخر زمان نمایاں بائیں ہاتھ کے بلے باز، شاہین شاہ آفریدی معروف بائیں ہاتھ کے فاسٹ باؤلر جبکہ عامر سہیل سابق پاکستانی بائیں ہاتھ کے بلے باز ہیں۔ ان کھلاڑیوں کی کامیابیاں اس بات کی مثال ہیں کہ مختلف ہونا کمزوری نہیں۔
مختلف ہونا کمزوری نہیں
لیفٹ ہینڈرز ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر انسان کا انداز ایک جیسا نہیں ہوتا۔ بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے بچوں کو اپنی فطری ترجیح کے مطابق کام کرنے کی آزادی ملنی چاہیے۔



