کوئٹہ میں دن کے درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ، خشک موسم اور لوگوں کا ایک دوسرے سے قریبی رابطہ سانس کی وائرل بیماریوں کے پھیلاؤ کو بڑھا سکتا ہے
کوئٹہ: بلوچستان میں ان دنوں گلے میں خراش، نزلہ، کھانسی، بخار اور جسم میں درد جیسی علامات کی شکایات عام سننے کو مل رہی ہیں۔ تاہم ہر گلے کی تکلیف کو لازماً ’’فلو‘‘ یا کسی ایک وائرس کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسی علامات مختلف وائرل سانس کی بیماریوں، الرجی، خشک ہوا اور بعض اوقات بیکٹیریا کی وجہ سے بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔
ستمبر میں کوئٹہ کا موسم کیوں اہم ہے؟
کوئٹہ میں ستمبر کے آغاز پر دن اور رات کے درجہ حرارت میں واضح فرق دیکھا جا رہا ہے۔ دستیاب موسمی اعداد کے مطابق یکم ستمبر کو کوئٹہ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت تقریباً 36 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا، جبکہ کم سے کم درجہ حرارت تقریباً 19 ڈگری ریکارڈ ہوا۔
یعنی ایک ہی دن میں درجہ حرارت میں تقریباً 17 ڈگری سینٹی گریڈ کا فرق پیدا ہو سکتا ہے۔ ایسے موسم میں صبح اور رات کو ٹھنڈک جبکہ دن میں گرمی لوگوں کے معمولات، خصوصاً باہر سے اندر اور اندر سے باہر آنے جانے، کو متاثر کرتی ہے۔
کیا واقعی فلو وائرس پھیل رہا ہے؟
پاکستان میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کا Integrated Respiratory Viruses Sentinel Surveillance نظام انفلوئنزا، COVID-19 اور RSV سمیت اہم سانس کے وائرسز کی نگرانی کرتا ہے۔ ملک بھر کے 12 لیبارٹری بیسڈ سینٹینل مراکز سے Influenza-Like Illness (ILI) اور Severe Acute Respiratory Infection (SARI) کے نمونے حاصل کیے جاتے ہیں۔
اس لیے صرف گلے کی خراش یا نزلہ دیکھ کر یہ کہنا درست نہیں کہ بلوچستان میں اس وقت ایک مخصوص وائرس کی وبا پھیل چکی ہے۔ کسی خاص وائرس کی تصدیق کے لیے ٹیسٹنگ اور مقامی نگرانی کے اعداد و شمار ضروری ہیں۔
خشک موسم بھی گلے کو متاثر کر سکتا ہے
کوئٹہ اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں موسم عمومی طور پر خشک رہتا ہے۔ ستمبر کے دوران کوئٹہ میں بارش بھی نسبتاً محدود رہنے کی پیش گوئی ہے، جبکہ بعض دستیاب موسمی اعداد کے مطابق اوسط نمی بھی کم رہ سکتی ہے۔
خشک ہوا ناک اور گلے کی جھلیوں میں خشکی اور جلن پیدا کر سکتی ہے، جس سے گلے میں خراش، کھانسی یا ناک بند ہونے جیسی شکایات زیادہ محسوس ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ دھول اور فضائی آلودگی بھی پہلے سے حساس گلے اور سانس کی نالی کو مزید متاثر کر سکتی ہے۔
ایک شخص سے دوسرے تک وائرس کیسے پہنچتا ہے؟
فلو اور دیگر سانس کے وائرس عموماً متاثرہ شخص کے کھانسنے، چھینکنے یا قریبی رابطے کے ذریعے پھیل سکتے ہیں۔ اسکول، دفاتر، بازار، ہاسٹل، پبلک ٹرانسپورٹ اور گھروں میں قریبی میل جول وائرس کی منتقلی کے مواقع بڑھا سکتا ہے۔
اسی لیے اگر ایک گھر میں ایک فرد کو وائرل انفیکشن ہو تو کچھ دنوں میں دوسرے افراد میں بھی نزلہ، کھانسی یا گلے کی خرابی کی علامات سامنے آ سکتی ہیں۔
ہر گلے کی خرابی فلو نہیں
طبی ماہرین کے مطابق گلے میں درد یا خراش کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ عام وائرل انفیکشن کے علاوہ الرجی، دھول، خشک ہوا، تیز مصالحہ، سگریٹ یا دوسرے دھوئیں سے بھی گلے میں جلن ہو سکتی ہے۔
اگر تیز بخار، سانس لینے میں دشواری، سینے میں درد، شدید کمزوری، پانی کی کمی یا علامات میں مسلسل بگاڑ پیدا ہو تو خود سے علاج کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
گلے اور سانس کی وائرل بیماریوں سے بچاؤ کے لیے چند سادہ اقدامات مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں:
ہاتھ باقاعدگی سے صابن سے دھوئیں۔
کھانستے یا چھینکتے وقت منہ اور ناک ڈھانپیں۔
بیمار ہونے کی صورت میں غیر ضروری قریبی میل جول کم کریں۔
پانی مناسب مقدار میں پئیں اور گلے کو خشک نہ ہونے دیں۔
دھول اور دھوئیں سے حتی الامکان بچیں۔
ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اینٹی بایوٹک استعمال نہ کریں، کیونکہ عام وائرل انفیکشن پر اینٹی بایوٹک اثر نہیں کرتی۔
بلوچستان میں اصل صورتحال جاننے کے لیے مقامی ڈیٹا ضروری
اس وقت دستیاب سرکاری نگرانی کا نظام پاکستان میں سانس کے وائرسز کی صورتحال پر نظر رکھتا ہے، لیکن صرف عوامی سطح پر گلے اور فلو کی شکایات بڑھنے سے بلوچستان میں کسی مخصوص وائرس کے پھیلاؤ یا وبا کا حتمی اعلان نہیں کیا جا سکتا۔
مختصر بات یہ ہے کہ بلوچستان میں موجودہ موسم، دن رات کے درجہ حرارت میں نمایاں فرق، خشک فضا، دھول اور قریبی انسانی رابطہ گلے اور سانس کی بیماریوں کی علامات میں اضافے میں کردار ادا کر سکتے ہیں؛ تاہم کسی مخصوص وائرس کی تصدیق کے لیے ٹیسٹ اور مقامی صحت کے اعداد و شمار ضروری ہیں۔ Balochistan’s changing September weather, dry conditions and close human contact may contribute to increased sore throat and respiratory symptoms, but laboratory surveillance is needed to determine which viruses are actually circulating



