گوادر آمد پر انتظامی افسران نے استقبال کیا، پولیس دستے کی سلامی؛ آل پارٹیز گوادر کے وفد سے ملاقات، درجہ چہارم کی آسامیوں پر غیر مقامی افراد کی تعیناتی کی شکایات پر سی ایم آئی ٹی کو تحقیقات کا حکم
وزیراعلیٰ بلوچستان کی گوادر آمد، سیاسی نمائندوں سے ملاقات
گوادر: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی گوادر پہنچ گئے، جہاں انتظامی افسران نے ان کا استقبال کیا جبکہ پولیس کے چاق و چوبند دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ نے آل پارٹیز گوادر کے عہدیداران اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقات کی، جس میں گوادر کی مجموعی صورتحال، عوامی مسائل، بنیادی سہولیات، روزگار اور دیگر علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ گوادر کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور مقامی اسٹیک ہولڈرز کو سننے آیا ہوں، حکومت عوامی مسائل کے حل اور مقامی آبادی کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔
گوادر سے تعلق رکھنے والے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے وزیراعلیٰ کو علاقے کے بنیادی مسائل اور عوامی مشکلات سے آگاہ کیا۔ سیاسی نمائندوں نے بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی، مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع اور درجہ چہارم کی آسامیوں کے ٹیسٹ و انٹرویوز مقامی سطح پر منعقد کرنے کا مطالبہ کیا۔
Chief Minister Sarfaraz Bugti arrived in Gwadar and met political representatives to discuss public issues and development.
درجہ چہارم کی آسامیوں کے ٹیسٹ مقامی سطح پر کرانے کا حکم
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے سیاسی نمائندوں کے مطالبات کا جائزہ لیتے ہوئے گوادر سمیت صوبے کے تمام اضلاع میں درجہ چہارم کی آسامیوں کے ٹیسٹ مقامی سطح پر منعقد کرنے کے احکامات جاری کیے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمتوں میں ضلعی تخصیص شدہ کوٹے پر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے گا تاکہ مقامی نوجوانوں کو ان کا جائز حق مل سکے۔ کسی مقامی امیدوار کا حق مارنے کی اجازت نہیں دیں گے اور بھرتیوں کے عمل میں میرٹ، شفافیت اور ضلعی کوٹے کی پابندی یقینی بنائی جائے گی۔
غیر مقامی افراد کی تعیناتی کی شکایات پر تحقیقات کا حکم
وزیراعلیٰ نے محکمہ فشریز اور محکمہ جنگلات گوادر کی درجہ چہارم کی آسامیوں پر غیر مقامی افراد کی تعیناتی سے متعلق شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم (سی ایم آئی ٹی) کو معاملے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ تحقیقات شفاف انداز میں مکمل کرکے حقائق پر مبنی جامع رپورٹ پیش کی جائے۔ اگر کسی بھی سطح پر قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گوادر کے گزشتہ 20 سالہ ترقیاتی وسائل کا ریکارڈ طلب
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ گوادر بلوچستان کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل شہر ہے اور یہاں کی ترقی کے ثمرات سب سے پہلے مقامی آبادی تک پہنچنے چاہئیں۔ گوادر کی ترقی صرف بڑے ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر کا نام نہیں بلکہ مقامی لوگوں کو بنیادی شہری سہولیات، روزگار، تعلیم، صحت، پانی اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی بھی ترقی کا لازمی حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ گوادر کی ترقی کے لیے ہر دور میں دعوے کیے گئے، اب گزشتہ 20 سال کا ریکارڈ دیکھا جائے گا کہ گوادر کی ترقی کے لیے کتنے وسائل خرچ کیے گئے اور ان وسائل کے استعمال سے عوام کی زندگیوں میں کتنا حقیقی فرق آیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت ترقیاتی منصوبوں کے اثرات اور عوام کو حاصل ہونے والے فوائد کا جائزہ لے گی تاکہ مستقبل کی منصوبہ بندی زمینی حقائق اور عوامی ضروریات کے مطابق کی جا سکے۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ گوادر کے عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی اور سرکاری وسائل کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جائے۔
سیاسی جماعتوں اور مقامی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری رکھنے کا اعلان
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ حکومت گوادر کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے سیاسی جماعتوں، منتخب نمائندوں، ضلعی انتظامیہ اور مقامی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ عوامی شکایات اور جائز مطالبات کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ گوادر بلوچستان کی ترقی کا اہم مرکز ہے، تاہم پائیدار ترقی اسی وقت ممکن ہے جب مقامی آبادی خود کو ترقی کے عمل کا حصہ سمجھے اور اسے اپنے بنیادی حقوق اور مواقع حاصل ہوں۔
ملاقات میں گوادر سے منتخب رکن قومی اسمبلی ملک شاہ گورگیج، رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن، صوبائی وزراء میر ضیاء لانگو، سردار فیصل خان جمالی، قبائلی و سیاسی رہنما میر ساجد دشتی، پرنسپل سیکرٹری عمران زرکون، ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ سمیت دیگر متعلقہ انتظامی افسران بھی موجود تھے۔


