گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ یونیورسٹی آف تربت پاکستان کی واحد جامعہ ہے جہاں طالبات کی تعداد نصف سے زیادہ ہے، جبکہ جامعہ نے رینکنگ میں اپنی کارکردگی 91.4 فیصد تک بہتر بنائی ہے۔
کوئٹہ: گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ یونیورسٹی آف تربت مختلف حوالوں سے ایک قابلِ فخر اعلیٰ تعلیمی ادارے کے طور پر ابھری ہے اور یہ پاکستان کی واحد یونیورسٹی ہے جہاں طلبہ کی مجموعی تعداد میں نصف سے زائد حصہ طالبات پر مشتمل ہے، جو سماجی تبدیلی اور تعلیمی ترقی کی مضبوط علامت ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف تربت کے دسویں سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس سردار احمد حلیمی، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن، صوبائی سیکرٹری ہائر ایجوکیشن صالح بلوچ، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندے ڈاکٹر ظہور بازئی سمیت سینیٹ کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔
گورنر بلوچستان نے کہا کہ یونیورسٹی آف تربت نے رینکنگ اینڈ اسکورنگ میں نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے اپنی کارکردگی 91.4 فیصد تک پہنچائی ہے، جس کا سہرا وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن اور ان کی ٹیم کے سر جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی آخری منزل نہیں بلکہ تعلیمی معیار میں مسلسل بہتری کا عمل جاری رہنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کا آئندہ پانچ سالہ منصوبہ واضح اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے، جبکہ تعلیمی اداروں میں اعلیٰ معیار کے فروغ کے لیے مستقل جدوجہد ناگزیر ہے۔
جعفر خان مندوخیل نے سینیٹ کی آئینی اور انتظامی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ یونیورسٹی کا اعلیٰ ترین قانونی فیصلہ ساز ادارہ ہے، جسے وہی حیثیت حاصل ہے جو حکومت میں کابینہ کو حاصل ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد شفافیت، جوابدہی، ادارہ جاتی سالمیت اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بناتا ہے۔
انہوں نے یونیورسٹی کے طلبہ کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ ان کی سب سے بڑی طاقت علم سے محبت اور کتاب دوستی ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے حصول میں جذبے اور لگن کو برقرار رکھیں کیونکہ علم ہی روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
اجلاس کے اختتام پر سینیٹ کے ارکان کی تجاویز اور سفارشات کی روشنی میں یونیورسٹی کے انتظامی و تعلیمی امور سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی گئی۔



