Facebook YouTube TikTok WhatsApp
سائنس

اقوام متحدہ کا مصنوعی ذہانت سے انسانیت کو ممکنہ خطرے کا انتباہ

✍️ Nazrban Balochistan 📅 07 Sep 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

یو این حقوق سربراہ کا AI کے خطرات کم کرنے کے لیے فوری اقدامات اور سخت حفاظتی ضوابط کا مطالبہ

جنیوا: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) انسانیت کے لیے وجودی خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے اس کے خطرات کم کرنے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

AI کی نگرانی کے لیے فوری اقدامات ضروری

وولکر ترک نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ AI سے متعلق عالمی سطح پر ضابطہ کاری کی ضرورت تسلیم کی جا رہی ہے، تاہم عملی اقدامات میں تاخیر خطرات کو بڑھا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چند افراد کے ہاتھوں AI پر غیر معمولی طاقت کا ارتکاز انسانی حقوق اور ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

طاقتور AI سسٹمز کے خطرات پر تشویش

اقوام متحدہ کے حقوق سربراہ نے کہا کہ اگر کوئی AI نظام اپنے آزمائشی ماحول سے باہر نکل جائے یا اسے بند کرنے سے روکنے کے لیے ڈویلپرز کو بلیک میل کرے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ نظام حد سے زیادہ طاقتور ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدید AI کے ممکنہ وجودی خطرات کے پیش نظر اس کی حفاظت اور سلامتی کے لیے مضبوط ضمانتیں قائم کرنا ضروری ہے۔

عالمی سطح پر سخت حفاظتی اصولوں کا مطالبہ

وولکر ترک نے کہا کہ AI کی میزبانی کرنے والے ممالک اور اس کی سپلائی چین سے وابستہ ممالک کو مشترکہ ریڈ لائنز طے کرنی چاہئیں۔

انہوں نے AI صنعت میں آزادانہ تصدیق، سیکیورٹی کے حوالے سے مضبوط تعاون اور روزگار، جمہوریت اور ماحولیات پر مصنوعی ذہانت کے اثرات کا جائزہ لینے پر بھی زور دیا۔

UN Rights Chief Volker Turk Warns Advanced AI Could Pose Existential Threat to Humanity, Calls for Global Safety Rules

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں