2013 کی اتراکھنڈ تباہی سے 2021 چمولی، 2023 سکم، 2024 نیپال اور اب 2026 کی تباہ کن گلیشیئر آفت تک، ہمالیہ میں قدرتی خطرات کا ایک ایسا سلسلہ سامنے آ رہا ہے جس میں موسمیاتی تبدیلی، غیر منصوبہ بند تعمیرات اور انسانی مداخلت کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
The Himalayas are facing a growing disaster risk as climate change, fragile mountain ecosystems and human development collide.
2013: اتراکھنڈ نے پہلی بڑی وارننگ دی
جون 2013 میں اتراکھنڈ کے کیدارناتھ اور گردونواح میں آنے والا سیلاب محض ایک شدید بارش کا واقعہ نہیں تھا بلکہ کئی قدرتی عوامل کے ایک ساتھ فعال ہونے کا نتیجہ تھا۔
16 سے 18 جون کے دوران غیر معمولی بارش ہوئی۔ سائنسی تحقیق کے مطابق شدید اور مسلسل بارش، برف پگھلنے اور بالائی علاقے میں موجود چوراباری جھیل کے اوورفلو یا ٹوٹنے نے تباہی کو مزید شدت دی۔
لیکن یہاں ایک اور سوال بھی سامنے آیا: کیا ہم نے خطرناک پہاڑی علاقوں میں انسانی آبادی، سیاحت اور تعمیرات کو اس رفتار سے بڑھایا جس رفتار سے خطرات کو سمجھا نہیں گیا؟
2013 کے سانحے نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ جب انتہائی بارش، کمزور پہاڑی ڈھلوانیں، گلیشیئرز اور دریا ایک ہی وقت میں متحرک ہوں تو نیچے موجود آبادی اور انفراسٹرکچر کے لیے خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
2021: چمولی میں پانی نہیں، پہاڑ بہہ نکلا
سات فروری 2021 کو بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے چمولی ضلع میں ایک اور تباہ کن واقعہ پیش آیا۔
اس مرتبہ بنیادی محرک روایتی معنوں میں صرف سیلاب نہیں تھا۔ سائنسی تجزیوں کے مطابق رونٹی چوٹی سے تقریباً 27 ملین مکعب میٹر چٹان اور برف کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ کر نیچے آیا، جس نے انتہائی تیز رفتار ملبے کے سیلاب کو جنم دیا۔ اس واقعے میں 200 سے زائد افراد ہلاک یا لاپتا ہوئے اور دو ہائیڈرو پاور منصوبے شدید متاثر ہوئے۔
یہ واقعہ ہمیں ایک اہم سبق دیتا ہے: ہمالیہ میں خطرہ ہمیشہ آسمان سے برسنے والے پانی کی شکل میں نہیں آتا؛ کبھی پورا پہاڑ ہی حرکت میں آ جاتا ہے۔
2023: سکم میں ایک جھیل نے دریا کو عفریت بنا دیا
چار اکتوبر 2023 کو سکم میں ساؤتھ لوناک جھیل سے نکلنے والے گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (GLOF) نے دریائے تیستا کے نظام میں تباہی مچا دی۔
بعد کی سائنسی تحقیق نے واقعے کو مزید پیچیدہ قرار دیا۔ تحقیق کے مطابق گلیشیئر تیزی سے پیچھے ہٹ رہا تھا، تقریباً 38.31 ملین مکعب میٹر ملبہ جھیل میں گرا، جبکہ تقریباً 7 ملین مکعب میٹر برف بھی جھیل میں داخل ہوئی۔ ان عوامل نے مل کر جھیل کے قدرتی بند کو توڑ دیا اور ایک تباہ کن سیلاب پیدا کیا۔
اس واقعے سے 60 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے، پل تباہ ہوئے اور ایک بڑا ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی نقصان کی زد میں آیا۔
یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ جھیل کیوں ٹوٹی؟
اصل سوال یہ ہے کہ جب جھیل کئی برسوں سے پھیل رہی تھی تو کیا ہم اس خطرے کو بروقت دیکھ رہے تھے؟
2024: نیپال میں بارش نے ثابت کیا کہ خطرہ صرف گلیشیئرز تک محدود نہیں
ستمبر 2024 میں نیپال میں شدید بارشوں نے بڑے پیمانے پر سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کو جنم دیا۔ 26 سے 28 ستمبر کے دوران ہونے والی انتہائی شدید بارش سے 244 افراد ہلاک ہوئے۔ ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن کے تجزیے نے نشاندہی کی کہ موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ تیز رفتار شہری پھیلاؤ اور ناقص شہری منصوبہ بندی نے سیلاب کے اثرات کو مزید سنگین بنایا۔
یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ بارش زیادہ ہو رہی ہے۔
مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم نے دریا کے راستوں، قدرتی نکاسی اور سیلابی میدانوں کے قریب کتنی تعمیرات کر دی ہیں۔
2026: اب کی بار ہمالیہ کا وار اور بھی بڑا تھا
26 اگست 2026 کو نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب ایک بڑے گلیشیئر انہدام نے برف، چٹان، مٹی اور پانی کا ایک انتہائی طاقتور سیلاب پیدا کیا۔
تازہ رپورٹس کے مطابق تباہی نے بھوٹے کوشی اور تریشولی دریائی نظام کے علاقوں کو شدید متاثر کیا۔ ہزاروں افراد ہلاک یا لاپتا ہوئے، پل، سڑکیں، گھر اور بجلی کے منصوبے تباہ ہوئے، جبکہ ریسکیو کارروائیاں دشوار پہاڑی جغرافیے کے باعث انتہائی مشکل رہیں۔
ابتدائی سائنسی جائزوں کے مطابق یہ واقعہ ایک بڑے گلیشیئر انہدام سے شروع ہوا۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بلند پہاڑی علاقوں میں بڑھتا درجہ حرارت گلیشیئرز، برف اور مستقل منجمد زمین یعنی پرمافراسٹ کو غیر مستحکم کر رہا ہے، تاہم اس مخصوص انہدام کو براہِ راست موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ قرار دینے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔
یہ فرق سمجھنا ضروری ہے: موسمیاتی تبدیلی خطرہ بڑھا سکتی ہے، لیکن ہر ایک مخصوص سیلاب یا گلیشیئر انہدام کا واحد سبب لازماً موسمیاتی تبدیلی نہیں ہوتا۔
تو پھر قصور صرف ہمارا ہے؟
یہ سوال جذباتی بھی ہے اور سائنسی بھی۔
یہ کہنا درست نہیں کہ 2013، 2021، 2023، 2024 یا 2026 کے ہر واقعے کو صرف انسانی سرگرمیوں نے پیدا کیا۔ پہاڑوں میں لینڈ سلائیڈ، برفانی تودے، شدید بارش اور گلیشیئر جھیلوں کا پھٹنا قدرتی عمل بھی ہیں۔
لیکن خطرے کو تباہی میں تبدیل کرنے میں انسان کا کردار بہت اہم ہو سکتا ہے۔
جب عالمی درجہ حرارت بڑھتا ہے تو گلیشیئرز پیچھے ہٹتے ہیں، نئی اور بڑی برفانی جھیلیں بنتی ہیں، پرمافراسٹ کمزور ہو سکتا ہے اور پہاڑی ڈھلوانوں کا استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔
اس کے ساتھ اگر ہم انہی وادیوں میں سڑکیں، سرنگیں، ہوٹل، ڈیم، ہائیڈرو پاور منصوبے اور آبادی پھیلاتے جائیں تو قدرتی خطرے کے سامنے انسانی نقصان کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
اصل مسئلہ ’قدرت‘ نہیں، خطرے کے ساتھ ہماری قربت ہے
ایک گلیشیئر کا ٹوٹنا بذاتِ خود ہمیشہ انسانی المیہ نہیں بنتا۔
المیہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اس کے نیچے ہزاروں لوگ آباد ہوں، دریا کے قدرتی راستے میں عمارتیں کھڑی ہوں، پل خطرناک مقام پر ہوں، بجلی کے بڑے منصوبے سیلابی راستے میں ہوں اور لوگوں کو چند منٹ پہلے بھی اطلاع نہ مل سکے۔
2026 کی تباہی کے بعد نیپال اب سرحدی علاقوں میں لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کے لیے نئے ابتدائی انتباہی نظام پر کام کر رہا ہے، جس میں زلزلہ پیما سینسر، کیمرے اور سیٹلائٹ مواصلات شامل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
یہ قدم اہم ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ہم ہر سانحے کے بعد نظام کیوں بناتے ہیں، سانحے سے پہلے کیوں نہیں؟
ہمالیہ ہمیں ایک ہی کہانی بار بار سنا رہا ہے
2013 میں شدید بارش اور پہاڑی جھیل کا خطرہ سامنے آیا۔
2021 میں چٹان اور برف کا پہاڑ نیچے آیا۔
2023 میں گلیشیئر جھیل پھٹی۔
2024 میں شدید بارش، شہری پھیلاؤ اور ناقص نکاسی نے تباہی بڑھائی۔
اور 2026 میں ایک گلیشیئر انہدام نے ہزاروں زندگیوں کو متاثر کیا۔
یہ پانچ واقعات ایک جیسے نہیں تھے، مگر ان سب میں ایک مشترک سبق موجود ہے:
ہمالیہ بدل رہا ہے، اور ہم اس کے بدلتے ہوئے خطرات سے کہیں زیادہ تیزی سے اس کے اندر تعمیرات کر رہے ہیں۔
اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے
ہمالیہ کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں۔ نہ گلیشیئر کو حکم دیا جا سکتا ہے کہ وہ نہ پگھلے، نہ پہاڑ کو کہا جا سکتا ہے کہ وہ نہ ٹوٹے اور نہ بادلوں کو روکا جا سکتا ہے۔
لیکن ہم یہ فیصلہ ضرور کر سکتے ہیں کہ خطرے کے راستے میں کہاں تعمیر نہیں کرنی، کون سی وادی محفوظ رکھنی ہے، کس گلیشیئر جھیل کی مسلسل نگرانی کرنی ہے، کس آبادی کو بروقت منتقل کرنا ہے اور لوگوں کو کتنی دیر پہلے خبردار کرنا ہے۔
اصل سوال شاید یہ نہیں کہ “قدرت ہمیں کیوں مار رہی ہے؟”
اصل سوال یہ ہے:
جب پہاڑ بار بار خبردار کر رہا ہے تو ہم اب بھی سن کیوں نہیں رہے؟
2013 سے 2026 تک کی یہ داستان کسی ایک سیلاب یا ایک گلیشیئر کی کہانی نہیں؛ یہ قدرتی خطرے، موسمیاتی تبدیلی، انسانی ترقی اور ناقص منصوبہ بندی کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کی کہانی ہے۔
اور اگر ہم نے اس تصادم سے سبق نہ سیکھا تو اگلی تاریخ صرف کیلنڈر پر ایک نیا سال نہیں ہوگی—ممکن ہے ہمالیہ کی وادیوں میں ایک اور نئی تباہی کا نام بن جائے۔



