ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی
تباہ کن سیلاب، ہزاروں افراد لاپتا، امدادی کارروائیاں جاری
کھٹمنڈو: ہمالیائی خطے میں گلیشیئر پگھلنے کے باعث آنے والے تباہ کن سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ چینی اور نیپالی امدادی ٹیمیں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔
حکام کے مطابقز بلند پہاڑی علاقے میں گلیشیئر کے اچانک ٹوٹنے کے نتیجے میں برفانی پانی، چٹانوں اور ملبے کی ایک بڑی لہر نے نچلے علاقوں کا رخ کیا، جس سے کئی آبادیاں تباہ ہو گئیں اور نیپال میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔
ہزاروں افراد لاپتا
رپورٹس کے مطابق تقریباً 4,500 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ امدادی ٹیمیں شدید دشوار حالات میں لاپتا افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
نیپال میں امدادی کارکن کھدائی، ڈرلنگ اور ملبہ ہٹانے کے ذریعے متعدد ہائیڈرو پاور سرنگوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، جہاں تقریباً 100 کارکنوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سرنگوں سے لاشیں برآمد
اب تک ملبے اور کیچڑ سے بھری سرنگوں سے زندہ افراد کے بجائے صرف لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ نیپال آرمی کے ترجمان راجا رام بسنیٹ کے مطابق فوج سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے ساتھ ساتھ لاشیں نکالنے اور بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔
نیپال میں مردہ خانوں میں گنجائش ختم ہونے کے بعد حکام نے ڈی این اے نمونے لینے کے بعد سیکڑوں نامعلوم لاشوں کی تدفین شروع کر دی ہے۔
بھارت میں بھی لاشیں مل گئیں
نیپال سے بہہ کر آنے والے دریاؤں میں بھارت کے دور دراز علاقوں سے بھی کم از کم 17 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔
نیپال کے وزیراعظم بالندر شاہ نے اس سانحے کو ناقابلِ تصور اور دل دہلا دینے والا قرار دیتے ہوئے متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔



