آج کے نوجوان کی زندگی کا بڑا حصہ ایک اسکرین کے گرد گھومتا ہے، لیکن بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی کے باوجود یہ سوال اہم ہوتا جا رہا ہے کہ کیا ہم جذباتی طور پر واقعی ایک دوسرے کے قریب ہیں؟
ڈیجیٹل رابطے، مگر جذباتی فاصلے
آج کے نوجوان کی زندگی کا بڑا حصہ ایک اسکرین کے گرد گھومتا ہے۔ صبح آنکھ کھلنے سے لے کر رات سونے تک موبائل فون، سوشل میڈیا، آن لائن کلاسز، چیٹس اور مسلسل آنے والی نوٹیفیکیشنز ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ رابطے کے ذرائع پہلے سے کہیں زیادہ ہیں، لیکن اس کے باوجود ایک سوال اہم ہوتا جا رہا ہے: کیا ہماری بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی نے ہمیں جذباتی طور پر ایک دوسرے کے قریب کیا ہے یا مزید دور؟
ہم اپنی روزمرہ زندگی کی تقریباً ہر چیز آن لائن شیئر کرتے ہیں۔ خوشی ہو تو تصویر، کامیابی ہو تو پوسٹ، سفر ہو تو سٹوری اور کسی اچیومنٹس پر فوری مبارک باد۔ لیکن جب بات خوف، ناکامی، تنہائی، اضطراب یا اندرونی الجھنوں کی ہو تو اکثر یہی نوجوان خاموش ہو جاتے ہیں۔
کامیاب نظر آنے کا دباؤ
مسئلہ صرف موبائل فون یا سوشل میڈیا کا استعمال نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی جذباتی ضروریات کو سمجھنے اور ان پر بات کرنے کی عادت کم کر دی ہے۔ نوجوانوں کے لیے آج کامیاب نظر آنا ضروری سمجھا جاتا ہے، لیکن پریشان ہونا، ناکام ہونا یا مدد مانگنا اکثر کمزوری تصور کیا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا نے اس صورتحال کو ایک اور پیچیدگی دے دی ہے۔ ہر شخص کی زندگی کا بہترین حصہ ہماری اسکرین پر نظر آتا ہے، جبکہ ہماری اپنی زندگی کا معمول، ہماری مشکلات اور ہماری ناکامیاں پردے کے پیچھے رہ جاتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان دوسروں کی نمایاں کامیابیوں کا موازنہ اپنی غیر نمایاں جدوجہد سے کرنے لگتے ہیں۔ یہی مسلسل موازنہ خود اعتمادی اور ذہنی سکون کو متاثر کر سکتا ہے۔
گھر اور معاشرے کا اثر
اس کے ساتھ گھر کا ماحول بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بعض اوقات والدین کی توقعات، تعلیمی مقابلہ،کیریر کی فکر اور دوسروں سے مسلسل موازنہ نوجوانوں کو یہ احساس دلاتا ہے کہ ان کی قدر صرف ان کی کامیابی سے وابستہ ہے۔ ایسے ماحول میں بچے اپنی اصل دلچسپی، شخصیت اور جذبات کے بجائے دوسروں کی توقعات کے مطابق زندگی گزارنے لگتے ہیں۔
ایک اور بڑا مسئلہ ذہنی صحت سے متعلق غلط تصورات ہیں۔ ہمارے معاشرے میں آج بھی بعض ذہنی بیماریوں کو بیماری سمجھنے کے بجائے کردار کی کمزوری، ایمان کی کمی یا غیر معمولی روحانی اثرات سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ اس سوچ کی وجہ سے بہت سے لوگ بروقت ماہرِ نفسیات سے رجوع نہیں کرتے۔
ذہنی صحت بھی توجہ چاہتی ہے
ذہنی صحت بھی جسمانی صحت کی طرح توجہ چاہتی ہے۔ جس طرح مسلسل تھکن کو نظرانداز کرنا جسم کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، اسی طرح مسلسل ذہنی دباؤ، شدید بے چینی، تنہائی یا رویوں میں نمایاں تبدیلی کو بھی محض “وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جائے گا” کہہ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
آج ٹیکنالوجی صرف رابطے اور تفریح تک محدود نہیں رہی بلکہ صحت کے شعبے میں بھی اس کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ آن لائن کونسلنگ، ٹیلی میڈیسن، ہیلتھ ایپس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے ماہرینِ صحت تک رسائی کو پہلے سے آسان بنایا ہے۔ خاص طور پر ایسے نوجوانوں کے لیے جو براہِ راست مدد لینے میں جھجھک محسوس کرتے ہیں، ٹیکنالوجی ابتدائی رہنمائی اور مدد کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔
ٹیکنالوجی سہولت ہے، انسانی احساس کا متبادل نہیں
لیکن ٹیکنالوجی سہولت فراہم کر سکتی ہے، انسانی احساس کی جگہ نہیں لے سکتی۔ ایک ایپ ہمیں ہماری نیند، اسکرین ٹائم یا جسمانی سرگرمی کا ڈیٹا تو بتا سکتی ہے، مگر یہ نہیں پوچھ سکتی کہ ہم اندر سے کس کیفیت سے گزر رہے ہیں۔ اسی لیے صحت اور ٹیکنالوجی کا بہتر مستقبل صرف زیادہ اسمارٹ ڈیوائسز بنانے میں نہیں، بلکہ ایسی ٹیکنالوجی تیار کرنے میں ہے جو انسان کو انسان سے مزید جوڑ سکے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کو اپنی زندگی پر حاوی ہونے دینے کے بجائے اسے اپنی صحت اور فلاح و بہبود کے لیے استعمال کریں۔ نوجوانوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مدد لینا کمزوری نہیں، بلکہ اپنی صحت کو سنجیدگی سے لینے کی علامت ہے۔
شاید اس پورے ڈیجیٹل دور میں ہمیں سب سے زیادہ ضرورت کسی نئی ایپ یا نئی ڈیوائس کی نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے لیے وقت نکالنے کی ہے۔ کیونکہ ٹیکنالوجی ہمیں ایک دوسرے تک پہنچا سکتی ہے، لیکن “ایک دوسرے کو سمجھنے کا کام آج بھی انسان ہی کو کرنا ہے۔”



