تحریر: اِرم سہیل
کشمیر کا تاریخی پس منظر
کشمیر کا تنازع 1947 میں برطانوی راج کے خاتمے اور برصغیر کی تقسیم سے جڑا ہے۔ اس وقت جموں و کشمیر ایک مسلم اکثریتی ریاست تھی، تاہم اس کا حکمران مہاراجہ ہری سنگھ ہندو تھا۔ ریاستوں کے حکمرانوں کو بھارت یا پاکستان سے الحاق کا اختیار دیا گیا تھا، جبکہ ہری سنگھ نے ابتدا میں کشمیر کو آزاد رکھنے کی کوشش کی۔
1947 میں ریاست کے مغربی علاقوں میں بغاوت اور قبائلی جنگجوؤں کی آمد کے بعد مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ Instrument of Accession پر دستخط کیے۔ بھارت نے الحاق قبول کیا اور اس کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ شروع ہوگئی۔ 1948 میں اقوام متحدہ کی مداخلت سے جنگ بندی ہوئی، جبکہ 1972 کے شملہ معاہدے کے بعد جنگ بندی لائن کو Line of Control (LoC) کہا گیا۔ کشمیر آج بھی مختلف انتظامی حصوں میں تقسیم ہے۔
آرٹیکل 370 اور 35A
بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 جموں و کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت دیتا تھا، جس کے تحت ریاست کو اپنا آئین، پرچم اور بعض معاملات میں الگ فیصلہ سازی کا اختیار حاصل تھا۔ آرٹیکل 35A کے تحت ریاستی قانون ساز اسمبلی مستقل باشندوں کی تعریف اور انہیں جائیداد، ملازمت اور سکونت سمیت بعض خصوصی حقوق دینے کا اختیار رکھتی تھی۔
5 اگست 2019 کے اقدامات
5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے آرٹیکل 370 کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدامات کیے اور آرٹیکل 35A کو غیر مؤثر کردیا۔ بعد ازاں سابق ریاست کو دو یونین ٹیریٹریز، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کیا گیا۔
بھارت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد جموں و کشمیر کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر آئینی نظام میں شامل کرنا، ترقی کو فروغ دینا اور حکمرانی بہتر بنانا تھا۔
پاکستان کا مؤقف
پاکستان نے 5 اگست 2019 کے اقدامات کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔ پاکستان کے مطابق کشمیر ایک متنازع خطہ ہے اور بھارت کو یکطرفہ طور پر اس کی آئینی یا متنازع حیثیت تبدیل کرنے کا اختیار نہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ کشمیری عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے حقِ خودارادیت ملنا چاہیے، اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادیں اسی مسئلے کے حل کے لیے اہم بنیاد ہیں۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق آرٹیکل 370 اور 35A کا خاتمہ کشمیری عوام کے سیاسی، آئینی اور بنیادی حقوق کو متاثر کرنے کے مترادف ہے، اسی لیے 5 اگست کو یومِ استحصالِ کشمیر (Kashmir Exploitation Day) کہا جاتا ہے۔
انسانی حقوق اور کشمیر
5 اگست کے بعد بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں سیاسی گرفتاریوں، نقل و حرکت، مواصلاتی بندش اور شہری آزادیوں کے حوالے سے انسانی حقوق کے خدشات سامنے آئے۔ بھارت ان اقدامات کو سکیورٹی اور دہشت گردی کے چیلنجز سے جوڑتا ہے۔
کشمیر آج بھی تاریخ، سیاست، انسانی حقوق اور حقِ خودارادیت سے جڑا ایک اہم تنازع ہے۔ علامہ محمد اقبال کے الفاظ میں:
آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
کل جسے اہلِ نظر کہتے تھے ایرانِ صغیر



