قرآن و سنت میں درگزر کو اعلیٰ اخلاق قرار دیا گیا، معاف کرنے والا انسان غصے، انتقام اور نفرت کے بجائے صبر و کردار کی طاقت کا انتخاب کرتا ہے
انسانی زندگی میں ایسے مواقع ضرور آتے ہیں جب کسی کے رویے، الفاظ یا عمل سے دل دکھتا ہے۔ ایسے وقت میں بدلہ لینا آسان محسوس ہوسکتا ہے، لیکن اسلام انسان کو صرف انتقام کی طرف نہیں بلکہ معافی، درگزر اور اصلاح کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے۔ قرآن و سنت میں معاف کرنے کو کمزوری نہیں بلکہ بلند کردار اور تقویٰ سے جوڑا گیا ہے۔
قرآن مجید میں معافی کی تعلیم
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے، لیکن جو شخص معاف کر دے اور اصلاح کرے، اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ یہ تعلیم انسان کو انتقام کے دائرے سے نکل کر ایک بلند اخلاقی رویے کو اختیار کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔
ایک اور مقام پر اہلِ ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے غصہ پی جانے اور لوگوں کو معاف کرنے والوں کی تعریف کی گئی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ غصے پر قابو پانا اور معاف کرنا اسلامی کردار کا اہم حصہ ہے۔
معاف کرنا کمزوری نہیں
معافی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر ظلم کو درست قرار دے یا اپنے حقوق سے دستبردار ہوجائے۔ اسلام انصاف کی اجازت دیتا ہے، لیکن جہاں معافی سے اصلاح، تعلقات کی بہتری اور خیر پیدا ہو، وہاں درگزر کو فضیلت قرار دیتا ہے۔
اصل طاقت یہ ہے کہ انسان غصے کے باوجود اپنے ردعمل پر قابو رکھے اور فیصلہ جذبات کے بجائے اصولوں کی بنیاد پر کرے۔
نبی کریم ﷺ کی زندگی سے سبق
نبی کریم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ میں عفو و درگزر کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ آپ ﷺ نے ذاتی تکالیف اور مخالفت کے باوجود کئی مواقع پر لوگوں کو معاف کیا اور ان کے لیے ہدایت کی دعا فرمائی۔
فتح مکہ کے موقع پر بھی وہ لوگ جو برسوں تک مسلمانوں کی مخالفت اور اذیت کا سبب بنے تھے، آپ ﷺ کے سامنے تھے۔ اس موقع پر عام معافی کا اعلان سیرتِ نبوی ﷺ میں عفو و درگزر کی ایک نمایاں مثال بن گیا۔
معافی انسان کو اندر سے کیسے مضبوط بناتی ہے؟
کسی شخص سے بدلہ لینے کی خواہش انسان کو ماضی کے واقعے سے مسلسل جوڑے رکھ سکتی ہے، جبکہ معافی دل کو نفرت اور انتقام کے بوجھ سے آزاد کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
معافی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انسان دوسروں کی غلطی کو اپنی شخصیت پر حاوی نہیں ہونے دیتا۔ وہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھتا ہے اور اپنی توانائی اصلاح، عبادت، مثبت تعلقات اور مستقبل کی طرف منتقل کرسکتا ہے۔
ہر معاملے میں خاموش رہنا ضروری نہیں
اسلامی تعلیمات میں معافی اور انصاف ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ اگر کسی کے عمل سے دوسروں کو نقصان پہنچ رہا ہو تو اسے روکنا اور اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھانا ضروری ہوسکتا ہے۔
اسی طرح معاف کرنا کسی ظالم کو مزید ظلم کا موقع دینا نہیں۔ بعض حالات میں فاصلے قائم کرنا، قانونی یا سماجی مدد لینا اور نقصان سے خود کو محفوظ رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
اصل کامیابی دل کو صاف رکھنے میں ہے
اسلام انسان کو ایسا کردار اپنانے کی دعوت دیتا ہے جس میں غصے کے بجائے صبر، نفرت کے بجائے خیرخواہی اور انتقام کے بجائے اصلاح کو ترجیح دی جائے۔
معافی کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ انسان دوسروں کی غلطیوں کے باوجود اپنے اخلاق کو خراب ہونے سے بچاتا ہے۔ یہی رویہ انسان کو اندر سے مضبوط اور کردار کے اعتبار سے بلند بنا سکتا ہے۔
Islam and Forgiveness: How Letting Go of Anger Can Build Inner Strength and Noble Character



