Facebook YouTube TikTok WhatsApp
کاروبار

پہلی بلوچستان فوڈ نمائش 2026 کا افتتاح، زراعت، لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر زور

✍️ Nazrban Balochistan 📅 17 Oct 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

کوئٹہ: گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ بلوچستان جغرافیائی اعتبار سے زراعت، لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے اور صوبہ پاکستان کی غذائی ضروریات پوری کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی کاشتکاروں، مالداروں اور ماہی گیروں کو جدید ٹیکنالوجی، وسائل اور بنیادی سہولیات فراہم کرکے ان شعبوں کو ترقی دی جا سکتی ہے۔

ورلڈ فوڈ ڈے پر پہلی بلوچستان فوڈ نمائش کا انعقاد

گورنر بلوچستان نے یہ بات عالمی یومِ خوراک کے موقع پر اقوام متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے زیر اہتمام پہلی بلوچستان فوڈ نمائش 2026 کا افتتاح کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں ایف اے او کے سب آفس کے سربراہ ولید مہدی، بیوٹمز یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد حفیظ، زرعی کالج کے پرنسپل ڈاکٹر شہنشاہ خان، زراعت کے ماہرین اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

گورنر جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ عالمی یومِ خوراک اور پہلی بلوچستان فوڈ نمائش کا انعقاد صوبے کی زرعی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور غذائی تحفظ کے لیے مشترکہ اقدامات کی جانب اہم پیش رفت ہے۔

لائیو اسٹاک اور گلہ بانی دیہی معیشت کے اہم ستون

گورنر بلوچستان نے کہا کہ صوبہ وسیع چراگاہوں اور مال مویشی کے قیمتی وسائل کے باعث لائیو اسٹاک اور گلہ بانی کے لیے موزوں خطہ ہے۔ یہ شعبہ دیہی معیشت کو مضبوط بنانے اور غذائی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

انہوں نے ژوب ڈویژن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کی وسیع چراگاہیں اور مویشی صوبے کی معاشی صلاحیت کی نمایاں مثال ہیں۔ ان کے مطابق ژوب ڈویژن کے مویشی سعودی عرب میں تقریباً 25 لاکھ حجاجِ کرام کی غذائی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ روایتی مالداری کو جدید، پیداواری اور برآمدات پر مبنی صنعت میں تبدیل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

گوادر اور مکران میں ماہی گیری کے وسیع مواقع

گورنر نے کہا کہ گوادر اور مکران کی طویل ساحلی پٹی پائیدار ماہی گیری، سمندری خوراک کی پراسیسنگ، آبی زراعت اور سمندر سے وابستہ صنعتوں کے فروغ کے لیے وسیع مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ساحلی علاقوں کے لوگوں کے تجربے اور مہارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ماہی گیری کے شعبے کو ترقی دی جا سکتی ہے، جس سے مقامی آبادی کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور صوبے کی معیشت مستحکم ہوگی۔

بلوچستان کے پھل عالمی منڈیوں میں نمایاں مقام حاصل کرسکتے ہیں

جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان اعلیٰ معیار کے زیتون، سیب، انگور، چیری، انار اور کھجور سمیت مختلف پھلوں کی پیداوار کے لیے مشہور ہے، جبکہ لورالائی کے زیتون کو بھی عالمی سطح پر اعلیٰ معیار کی اہمیت حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کی زرعی مصنوعات میں ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں میں نمایاں مقام حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ کولڈ اسٹوریج، جدید پیکیجنگ، فوڈ پراسیسنگ اور نقل و حمل کی سہولیات کو بہتر بنا کر فصلوں کے بعد ہونے والے نقصانات کم کیے جا سکتے ہیں اور کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ ممکن ہے۔

غذائی تحفظ کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں

گورنر بلوچستان نے کہا کہ عالمی یومِ خوراک ہمیں دنیا بھر میں بھوک، غذائی قلت اور متوازن خوراک تک رسائی کے مسائل کی یاد دہانی کراتا ہے۔ پہلی بلوچستان فوڈ نمائش محض زرعی مصنوعات کی نمائش نہیں بلکہ کاشتکاروں، محققین، سرمایہ کاروں، پالیسی سازوں اور صارفین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی مؤثر کوشش ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ نمائش مستقبل میں ایک مستقل پلیٹ فارم کی شکل اختیار کرے گی اور بلوچستان میں سرمایہ کاری، زرعی ترقی اور غذائی مصنوعات کی برآمدات کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگی۔

تقریب کے اختتام پر گورنر بلوچستان نے فوڈ نمائش 2026 میں قائم مختلف اسٹالز کا دورہ کیا اور نمائش میں پیش کی گئی مصنوعات کا معائنہ کیا

Governor Balochistan Jaffar Khan Mandokhail inaugurates the first Balochistan Food Exhibition 2026, highlighting the province’s potential in agriculture, livestock, fisheries, and food exports.

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں
↑