اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو محدود کرنے کیلئے 2030 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 18 فیصد اور 2035 تک 45 فیصد کمی کرنا ہوگی، جبکہ فضا سے 320 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی ہٹانا ہوگی۔
عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے متعلق نئی رپورٹ
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کی ایمیشنز گیپ رپورٹ 2026: دی پوائنٹ آف ریٹرن کے مطابق، موجودہ پالیسیوں کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں اس صدی کے دوران عالمی درجہ حرارت میں اضافہ 2.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2025 کی سطح کے مقابلے میں 2030 تک اخراج میں 18 فیصد، 2035 تک 45 فیصد اور 2040 تک 69 فیصد کمی درکار ہوگی۔ اس کے ساتھ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ ہٹانے کے اقدامات بھی ضروری ہیں تاکہ صدی کے اختتام تک درجہ حرارت کو دوبارہ 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد تک لایا جا سکے۔
موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے فوری اقدامات پر زور
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری سے زیادہ اضافے کے باوجود اس اضافے کو کم سے کم اور مختصر مدت تک محدود رکھنا ممکن ہے۔اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن نے خبردار کیا کہ درجہ حرارت میں اضافہ سیلاب، شدید گرمی کی لہروں اور جنگلاتی آگ جیسے خطرات کو بڑھاتا ہے۔
The UN report calls for faster emission cuts to limit global warming and reduce climate-related risks.
قابل تجدید توانائی اور جنگلات کے تحفظ پر زور
رپورٹ میں 2030 تک قابل تجدید توانائی کی صلاحیت تین گنا کرنے، توانائی کی بچت میں بہتری کی سالانہ رفتار دوگنا کرنے، توانائی کے نظام میں کوئلے، تیل اور گیس پر انحصار کم کرنے اور جنگلات کی کٹائی روکنے پر زور دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اگر تمام ممالک اپنے موجودہ قومی موسمیاتی منصوبوں پر مکمل عمل بھی کریں تو اس صدی کے دوران عالمی درجہ حرارت میں اضافہ تقریباً 2.6 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رہ سکتا ہے، جو 1.5 ڈگری کے ہدف سے زیادہ ہے۔ اس لیے موسمیاتی اہداف پر تیز رفتار اور مؤثر عملدرآمد ناگزیر ہے۔



