کیمیائی مرکبات کے ذریعے انسانی خلیوں کو جوان بنانے کا تجربہ کامیاب، تحقیق سے عمر بڑھنے کے عمل کو تبدیل کرنے کے نئے امکانات روشن
سائنس ڈیسک: بڑھتی عمر کے اثرات کو کم کرنے اور انسانی خلیوں کو دوبارہ جوان بنانے کے حوالے سے سائنسدانوں نے ایک اہم پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔ نئی تحقیق میں محققین نے مخصوص کیمیائی مرکبات کے استعمال سے 80 سالہ فرد کے خلیوں کی حیاتیاتی عمر کو نمایاں طور پر کم کرکے انہیں 19 سالہ فرد کے خلیوں جیسی خصوصیات کا حامل قرار دیا ہے۔
تحقیق کے مطابق اس طریقہ کار سے خلیوں میں عمر کے ساتھ پیدا ہونے والی بعض سالماتی تبدیلیوں کو کم کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی، جس سے مستقبل میں عمر سے متعلق بیماریوں کے علاج کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
جینیاتی تبدیلی کے بجائے کیمیائی مرکبات کا استعمال
روایتی طریقوں میں خلیوں کو دوبارہ جوان بنانے کے لیے جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے انہیں اسٹیم سیلز میں تبدیل کیا جاتا ہے، تاہم اس عمل میں بعض صورتوں میں کینسر کا خطرہ بڑھنے کا خدشہ موجود ہوتا ہے۔
نئے طریقہ کار میں جینیاتی تبدیلی کے بجائے مخصوص چھوٹے کیمیائی سالمات (Small Molecules) کے مرکبات استعمال کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے خلیوں کی بنیادی شناخت اور افعال برقرار رکھتے ہوئے عمر رسیدگی سے وابستہ تبدیلیوں کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
محققین کے مطابق اس طریقے سے جلد یا دل کے خلیے اپنی اصل شناخت برقرار رکھ سکتے ہیں، جبکہ ان میں عمر کے باعث پیدا ہونے والی بعض تبدیلیوں کو بھی واپس پلٹایا جا سکتا ہے۔
ایپی جینیٹک گھڑی کے ذریعے حیاتیاتی عمر کا جائزہ
تحقیق میں خلیوں کی عمر جانچنے کے لیے ایپی جینیٹک کلاک (Epigenetic Clock) کا استعمال کیا گیا، جو ڈی این اے میں وقت کے ساتھ ہونے والی کیمیائی تبدیلیوں کی بنیاد پر حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگاتی ہے۔
تجربے کے بعد عمر رسیدہ خلیوں میں ظاہری اور سالماتی سطح پر نمایاں تبدیلیاں دیکھی گئیں، جبکہ ان کے میٹابولک افعال اور جینز کے اظہار کے بعض نمونے بھی کم عمر خلیوں سے مشابہ قرار دیے گئے۔
محققین کے مطابق یہ نتائج انسانی خلیوں کی حیاتیاتی عمر میں کمی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہیں۔
الزائمر اور دل کی بیماریوں کے علاج کے نئے امکانات
ماہرین کے خیال میں یہ تحقیق مستقبل میں ری جنریٹو میڈیسن (Regenerative Medicine) کے شعبے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جہاں جسم کے متاثرہ خلیوں اور ٹشوز کی مرمت کے لیے نئی تکنیکیں استعمال کی جاتی ہیں۔
اس طریقہ کار کے ممکنہ فوائد میں دل کے متاثرہ ٹشوز کی مرمت، الزائمر جیسی دماغی بیماریوں کی پیش رفت کو سست کرنے اور اعضا کی پیوندکاری کے نتائج بہتر بنانے کے امکانات شامل ہیں۔
تاہم ان ممکنہ فوائد کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق اور طبی تجربات کی ضرورت ہے۔
Scientists Explore Chemical Method to Reverse Cellular Aging, Making 80-Year-Old Cells Biologically Younger
انسانی آزمائشوں سے پہلے مزید تحقیق ضروری
سائنسدانوں کے مطابق یہ تحقیق فی الحال خلیوں کی سطح پر ایک ابتدائی سائنسی تصور کی کامیابی ظاہر کرتی ہے، لیکن اسے انسانی علاج کے طور پر استعمال کرنے سے پہلے کئی مراحل طے کرنا ہوں گے۔
خصوصاً جوان بنائے گئے خلیوں کی طویل مدتی کارکردگی، ان کی حفاظت اور جسم میں ممکنہ منفی اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ تجربات میں اس طریقہ کار کی افادیت اور حفاظت ثابت ہو جاتی ہے تو مستقبل میں عمر رسیدگی سے متعلق بیماریوں کے علاج اور انسانی خلیوں کی بحالی کے شعبے میں ایک نئی راہ کھل سکتی ہے۔



