Facebook YouTube TikTok WhatsApp
تعلیم

وزیراعلیٰ بلوچستان کی اسکالرشپ پر منتخب طلبہ سے ملاقات، پاکستانیت کے فروغ پر زور

✍️ Nazrban Balochistan 📅 13 Aug 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مختلف صوبوں کی جامعات میں اسکالرشپ پر اعلیٰ تعلیم کے لیے منتخب طلبہ و طالبات سے ملاقات کی، جہاں ترقیاتی منصوبوں، گورننس اور دیگر اہم امور پر تفصیلی مکالمہ ہوا۔

طلبہ کے ساتھ سوال و جواب کا طویل سیشن

ملاقات کے دوران طلبہ و طالبات نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے مختلف معاملات پر سوالات کیے اور اپنی آراء پیش کیں۔ اس موقع پر تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا، جس میں ترقیاتی منصوبوں، گورننس اور صوبے سے متعلق دیگر اہم امور پر گفتگو کی گئی۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع سے طلبہ و طالبات کا میرٹ پر اسکالرشپ کے لیے انتخاب ان کے روشن تعلیمی مستقبل کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکالرشپ کے لیے منتخب ہونے والے زیادہ تر طلبہ کا تعلق غریب اور متوسط طبقے سے ہے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے طلبہ کو معاونت

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ ملک کی اعلیٰ جامعات میں مختلف شعبوں میں بلوچستان کے نوجوانوں کی تعلیم باعثِ مسرت ہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے بلوچستان کے طلبہ کو داخلے کے ساتھ ٹیوشن اور ہاسٹل فیس میں بھی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

انہوں نے اس تعاون پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور حکومت پنجاب کا شکریہ ادا کیا۔

Scholarships are opening new pathways for talented students from Balochistan to pursue higher education.

طلبہ کو نظم و ضبط اور محنت کی تلقین

میر سرفراز بگٹی نے طلبہ کو تلقین کی کہ دیگر صوبوں کی جامعات میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے نظم و ضبط اور محنت کو اپنا شعار بنائیں، والدین کی توقعات پر پورا اتریں اور کسی بھی ریاست مخالف تنظیم یا پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں۔

انہوں نے کہا کہ تصور اور حقائق میں فرق ہے، جبکہ ریاست مخالف عناصر غیر متوازن ترقی کے نام پر طلبہ کی منفی ذہن سازی کرتے ہیں۔ نوجوانوں کو ایسے عناصر سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

طلبہ پاکستان کے سفیر ہیں، وزیراعلیٰ

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ قائم رہنے کے لیے بنا ہے اور تاقیامت قائم رہے گا، جبکہ پاکستان کو تقسیم کرنے کا خواب دیکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔

انہوں نے طلبہ سے کہا کہ وہ جہاں بھی جائیں پاکستانیت کا پرچار کریں، کیونکہ وہ بلوچستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بھی سفیر ہیں۔

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں