ہوبئی سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ سونگ شینگ یاؤ کی مصنوعی ذہانت سے مدد لے کر جدید فلائنگ مشین بنانے کی کوشش، ابتدائی ناکامی کے بعد نئے ماڈل کی کامیاب آزمائشی پرواز کا دعویٰ
چین کے صوبے ہوبئی سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ نوجوان سونگ شینگ یاؤ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سائنس فکشن فلموں میں دکھائی جانے والی اڑنے والی مشین کے تصور کو حقیقت کا روپ دے دیا ہے۔ نوجوان کے مطابق انہوں نے ایک ایسا ہوور بورڈ تیار کیا ہے جو ہوا میں بلند ہو کر پرواز کر سکتا ہے۔
سونگ شینگ یاؤ کا یہ منصوبہ فلموں میں دکھائی جانے والی مستقبل کی ٹیکنالوجی سے متاثر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مشین کی تیاری کے دوران انہیں مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم انہوں نے ناکامی کے باوجود کوشش جاری رکھی اور بالآخر ایک نیا ماڈل تیار کرنے میں کامیاب ہوئے۔
گرین گوبلن کے گلائیڈر سے متاثر ہو کر منصوبے کا آغاز
رپورٹ کے مطابق سونگ شینگ یاؤ نے ابتدائی پروٹوٹائپ کی ناکامی کے بعد اپنی توجہ ایک ایسے ہوور بورڈ کی تیاری پر مرکوز کی جو فلم ’اسپائیڈر مین‘ کے ولن گرین گوبلن کے اڑنے والے گلائیڈر سے مشابہت رکھتا ہو۔
فلم میں گرین گوبلن ایک مخصوص اڑنے والی مشین استعمال کرتا ہے، جس نے نوجوان کو اسی نوعیت کی ٹیکنالوجی تیار کرنے کی ترغیب دی۔ تاہم، اس تصور کو عملی شکل دینا آسان نہیں تھا اور ابتدائی ماڈل مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
مصنوعی ذہانت کی مدد سے نیا ماڈل تیار
ابتدائی تجربے میں ناکامی کے بعد نوجوان نے اپنے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی سے مدد لی۔ ان کے مطابق نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے انہوں نے ہوور بورڈ کا نیا ماڈل تیار کیا، جس کی آزمائشی پرواز کامیاب رہی۔
سونگ شینگ یاؤ کا دعویٰ ہے کہ ان کی تیار کردہ مشین بیک وقت چار بالغ افراد کو لے کر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم، اس دعوے کی آزادانہ تصدیق، مشین کی تکنیکی تفصیلات، پرواز کی بلندی، دورانیے اور وزن اٹھانے کی حقیقی صلاحیت کے بارے میں مزید معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
ناکامی کے خوف کے بغیر آگے بڑھنے کا عزم
اپنے سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے سونگ شینگ یاؤ نے کہا کہ جب انہوں نے اس منصوبے پر کام شروع کیا تو ان کے پاس وسائل محدود تھے، لیکن انہیں ناکامی کا خوف نہیں تھا۔ ان کے بقول، بہادری کے ساتھ آگے بڑھتے رہنا ہی کامیابی کی جانب بہترین راستہ ہے۔
ان کا یہ تجربہ نئی ٹیکنالوجی میں دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں کے لیے جدوجہد، تخلیقی سوچ اور مسلسل کوشش کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
کیا اڑنے والا ہوور بورڈ مستقبل کی ٹرانسپورٹ بن سکتا ہے؟
اڑنے والی ذاتی مشینوں کا تصور طویل عرصے سے سائنس فکشن فلموں اور جدید انجینئرنگ کے مباحث کا حصہ رہا ہے۔ اگر اس نوعیت کی ٹیکنالوجی کو محفوظ، قابلِ اعتماد اور عملی طور پر قابلِ استعمال بنایا جا سکے تو مستقبل میں اسے تفریح، مخصوص صنعتی کاموں یا مختصر فاصلے کی نقل و حرکت کے لیے استعمال کرنے کے امکانات پر غور کیا جا سکتا ہے۔
تاہم، کسی بھی ایسی مشین کو عام استعمال میں لانے سے پہلے اس کی پرواز کی صلاحیت، استحکام، توانائی کے نظام، وزن اٹھانے کی حد اور حفاظتی معیار کی آزادانہ جانچ ضروری ہے۔ فی الحال سونگ شینگ یاؤ کے ہوور بورڈ سے متعلق چار افراد کو لے کر پرواز کرنے کا دعویٰ مزید تصدیق کا متقاضی ہے۔
Chinese Inventor Song Shengyao Claims to Develop AI-Powered Flying Hoverboard Capable of Carrying Four Adults



