مشرقِ وسطیٰ کے تنازع، تیل کی سپلائی میں کمی اور غذائی اجناس کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث 2026 میں عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں 23 فیصد اضافے کا امکان ہے۔
توانائی اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
عالمی بینک کی 28 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق توانائی کی قیمتیں 2026 میں 32 فیصد بڑھ سکتی ہیں۔ برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 2025 کے 69 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 2026 میں 91 ڈالر ہونے کا امکان ہے، جبکہ 2027 میں یہ کم ہوکر 79 ڈالر رہ سکتی ہے۔عالمی تیل کی پیداوار میں 5.2 فیصد کمی متوقع ہے، جو 2020 کی عالمی کساد بازاری کے علاوہ چار دہائیوں سے زائد عرصے کی سب سے بڑی کمی ہوگی۔ تیل کی کھپت میں بھی 2.5 فیصد کمی کا امکان ہے۔
خوراک، کھاد اور دھاتوں کی قیمتیں
رپورٹ کے مطابق غذائی اجناس کی قیمتیں 2026 میں تقریباً 10 فیصد اور 2027 میں مزید 7 فیصد بڑھ سکتی ہیں، جس سے مجموعی اضافہ 18 فیصد ہوجائے گا۔ کھاد کی قیمتوں میں 2026 کے دوران 14 فیصد اضافے کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔صنعتی دھاتوں کی قیمتیں 25 فیصد بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ قابلِ تجدید توانائی، الیکٹرک گاڑیوں اور ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی طلب صنعتی دھاتوں کی قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہات ہیں۔
Food and energy price increases could worsen inflation and food insecurity worldwide.
عالمی معیشت اور غریب ممالک کو خطرات
عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ تنازعات میں شدت، تیل کی رسد میں مزید رکاوٹوں اور بحیرہ اسود سے اناج کی ترسیل متاثر ہونے کی صورت میں خوراک کا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ منفی صورتحال میں 2027 کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل اور غذائی اجناس کی قیمتیں بنیادی پیش گوئی سے 12 فیصد زیادہ ہوسکتی ہیں۔عالمی بینک گروپ نے قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے نمٹنے کے لیے 50 سے 60 ارب ڈالر کی مالی معاونت دستیاب کی ہے، جس میں 25 ارب ڈالر کی پیشگی طے شدہ مالی معاونت شامل ہے۔ اس کا مقصد کمزور طبقات کو تحفظ، کم آمدن والے ممالک کی مدد اور کاروباروں و زرعی شعبے کو مالی سہولت فراہم کرنا ہے۔



