Facebook YouTube TikTok WhatsApp
کالم

منگرووز: موسمیاتی تبدیلی کے خلاف قدرتی دفاع

✍️ Nazrban Balochistan 📅 27 Jul 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

تحریر : اِرم سہیل

ہر سال 26 جولائی کو دنیا بھر میں منگرووز کے تحفظ کا عالمی دن (International Day for the Conservation of the Mangrove Ecosystem) منایا جاتا ہے۔ یونیسکو نے 2015 میں اس دن کو منانے کا آغاز کیا تاکہ دنیا کو یہ باور کرایا جا سکے کہ منگرووز محض درخت نہیں بلکہ ساحلی علاقوں کے قدرتی محافظ، حیاتیاتی تنوع کے ضامن اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ایک مؤثر قدرتی دفاع ہیں۔ اس دن کے موقع پر دنیا بھر میں ان جنگلات کے تحفظ، بحالی اور پائیدار استعمال کی اہمیت اجاگر کی جاتی ہے، کیونکہ منگرووز کا مستقبل درحقیقت انسانوں کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔

دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات نے ساحلی علاقوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ سمندری طوفان، ساحلی کٹاؤ، سمندر کی سطح میں مسلسل اضافہ اور غیر متوقع موسمی تبدیلیاں ایسے چیلنجز ہیں جن سے نمٹنے کے لیے قدرت نے خود ایک مؤثر نظام فراہم کیا ہے، جسے منگرووز کہا جاتا ہے۔ یہ نمکین پانی میں اگنے والے درخت نہ صرف ساحلی ماحول کو محفوظ بناتے ہیں بلکہ معیشت، ماہی گیری اور ماحولیات کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔

پاکستان میں منگرووز کے جنگلات بنیادی طور پر سندھ کے ساحلی علاقوں، خصوصاً انڈس ڈیلٹا میں پائے جاتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب یہ جنگلات تیزی سے سکڑ رہے تھے، مگر حکومتی، مقامی آبادی اور مختلف قومی و بین الاقوامی اداروں کی مشترکہ کوششوں سے صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (FAO) کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان میں منگرووز کے رقبے میں قابل ذکر اضافہ ہوا، جو ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے ایک مثبت مثال ہے۔

منگرووز موسمیاتی تبدیلی کے خلاف قدرتی ڈھال کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کے مطابق یہ جنگلات ایک ہی رقبے پر عام زمینی جنگلات کے مقابلے میں تقریباً تین سے پانچ گنا زیادہ کاربن ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے انہیں “بلیو کاربن ایکو سسٹمز” کا اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے عالمی حدت کی رفتار کم کرنے اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

بدقسمتی سے منگرووز مختلف خطرات کی زد میں ہیں۔ ساحلی آبادی میں اضافہ، صنعتی آلودگی، غیر منصوبہ بند تعمیرات، جنگلات کی کٹائی اور موسمیاتی تبدیلی ان کی بقا کے لیے بڑے خطرات ہیں۔ اگر ان جنگلات کا تحفظ نہ کیا گیا تو نہ صرف ساحلی ماحولیاتی نظام متاثر ہوگا بلکہ ماہی گیری، غذائی تحفظ، حیاتیاتی تنوع اور لاکھوں ساحلی باشندوں کے روزگار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں منگرووز کے تحفظ اور بحالی کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

اقتصادی اعتبار سے بھی منگرووز کی اہمیت بے حد زیادہ ہے۔ عالمی بینک کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں ساحلی خاندان اپنی خوراک، روزگار اور آمدنی کے لیے منگرووز سے وابستہ ماہی گیری اور دیگر ساحلی وسائل پر انحصار کرتے ہیں۔ منگرووز مچھلی، جھینگا اور کیکڑوں سمیت متعدد آبی حیات کی افزائش کے لیے قدرتی نرسری کا کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی ہزاروں ماہی گیر خاندان اپنی آمدنی کے لیے ان ساحلی جنگلات پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ منگرووز ساحلی سیاحت، شہد کی پیداوار اور مقامی معیشت کے دیگر شعبوں کو بھی سہارا دیتے ہیں۔ ان کی تباہی کا مطلب صرف ماحولیات کا نقصان نہیں بلکہ روزگار، خوراک اور قومی معیشت کو بھی شدید دھچکا پہنچنا ہے۔

منگرووز ساحلی کٹاؤ کو کم کرتے، سمندری طوفانوں کی شدت کو محدود کرتے اور سیلابی لہروں کے اثرات میں نمایاں کمی لاتے ہیں۔ 2004ء کے بحرِ ہند کے سونامی کے بعد مختلف سائنسی مطالعات سے معلوم ہوا کہ جن علاقوں میں منگرووز کے جنگلات موجود تھے وہاں جانی و مالی نقصان نسبتاً کم ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین انہیں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے قدرت کے سب سے مؤثر اور کم لاگت حلوں میں شمار کرتے ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنے منگرووز کے جنگلات کو صرف درختوں کا مجموعہ نہ سمجھے بلکہ انہیں قومی معیشت، غذائی تحفظ اور موسمیاتی پالیسی کا بنیادی حصہ بنائے۔ ان کے تحفظ، مزید شجرکاری، ساحلی آلودگی پر قابو پانے اور مقامی آبادی کی فعال شمولیت کے ذریعے نہ صرف ساحلی علاقوں کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک پائیدار ماحول اور مضبوط معیشت کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔ منگرووز دراصل وہ خاموش محافظ ہیں جو بیک وقت ماحول، معیشت اور انسانی زندگی کا تحفظ کر رہے ہیں، اور ان کی حفاظت ہی ہمارے مستقبل کی حفاظت ہے۔

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں