Facebook YouTube TikTok WhatsApp
بین الاقوامی

نیپال اور تبت میں تباہ کن سیلاب، 1500 افراد لاپتا

✍️ Nazrban Balochistan 📅 27 Aug 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

نیپال اور چین کے علاقے تبت میں شدید سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ تقریباً 1500 افراد لاپتا ہیں۔

نیپال میں 826 افراد لاپتا

نیپال اور چین کے زیرِ انتظام تبت میں بدھ کے روز آنے والے تباہ کن سیلاب نے کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ حکام کے مطابق دونوں علاقوں میں تقریباً 1500 افراد لاپتا ہیں، جن میں تقریباً 800 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

نیپالی پولیس کے مطابق ملک میں 826 افراد لاپتا ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 165 سے تجاوز کرنے کا خدشہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشن دوبارہ شروع ہونے کے بعد مزید لاشیں ملنے کا امکان ہے۔

لاپتا افراد میں 177 بھارتی، 63 امریکی، 34 آسٹریلوی، 33 برطانوی اور 25 کینیڈین شہری بھی شامل ہیں۔

تبت میں 558 افراد لاپتا

چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق تبت کے گیریونگ کاؤنٹی میں 558 افراد لاپتا ہیں، جن میں 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ چینی حکام کے مطابق تاحال تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

تباہ کن سیلاب نے سرحدی علاقے میں گھروں، سڑکوں اور بجلی کے منصوبوں کو شدید نقصان پہنچایا، جبکہ پانی اور ملبے کے ریلے نے متعدد افراد کو بہا دیا۔

ہزاروں افراد امداد کے منتظر

نیپال کے متاثرہ علاقوں میں 5 ہزار سے زائد فوجی اور پولیس اہلکار امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ حکام کے مطابق جمعرات کو 125 افراد کو ریسکیو کیا گیا، جن میں 20 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں خیمے، خوراک اور دیگر ضروری امدادی سامان پہنچایا جا رہا ہے۔ نیپال کے وزیراعظم بالیندر شاہ بھی شدید متاثرہ ضلع نواکوٹ کا دورہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔

گلیشیئر کے ملبے سے سیلاب آنے کا خدشہ

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ممکنہ طور پر گلیشیئر کا ایک حصہ ٹوٹنے کے باعث یہ تباہ کن سیلاب آیا۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق علاقے میں ریکارڈ ہونے والی زلزلے جیسی سرگرمی دراصل برفانی چٹان اور ملبے کے انہدام سے پیدا ہونے والی توانائی تھی، جس کے بعد ملبے کا شدید بہاؤ آیا۔

چینی حکام نے گیریونگ میں ایک جھیل سے بھی خطرے کی نشاندہی کی ہے، جہاں پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ موجود ہے۔ حکام کے مطابق اگر جھیل کا بند ٹوٹا تو امدادی کارروائیوں میں مزید مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

متاثرہ علاقے سے بڑی تعداد میں لوگ مقدس مقام کیلاش مانسروور کی یاترا کے لیے بھی گزر رہے تھے، جس کے باعث غیر ملکی شہریوں کی بڑی تعداد متاثر ہوئی ہے۔

International rescue efforts are expanding as Nepal and Tibet face a devastating flood disaster.

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں