آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی تجارت کے لیے کھلی رکھی جائیں، فلسطین کی آزاد ریاست کا قیام ہی منصفانہ اور پائیدار امن کا راستہ ہے، وزیراعظم کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فوجی محاذ آرائی کے خاتمے کے لیے عالمی برادری پر سفارتی کوششیں تیز کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں کو عالمی تجارت، اقتصادی سرگرمیوں اور علاقائی خوشحالی کے لیے کھلا رکھنا ناگزیر ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ اہم بحری گزرگاہیں عالمی معیشت کی شہ رگ ہیں، انہیں تصادم اور محاذ آرائی کا مرکز بنانے کے بجائے عالمی رابطوں اور اقتصادی ترقی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں اور اسلام آباد مذاکرات
وزیراعظم شہباز شریف نے فروری میں خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والے تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات اور بعد ازاں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت تنازع کے خاتمے کی جانب اہم پیش رفت تھے۔
وزیراعظم نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو مشکل حالات میں سفارت کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوششوں پر خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مسلسل فوجی محاذ آرائی کے دوران سفارت کاری کو ترجیح دی جائے اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
فلسطین کے لیے آزاد اور خودمختار ریاست کا مطالبہ
وزیراعظم نے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی تشدد اب مغربی کنارے تک پھیل چکا ہے، جہاں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے آزاد، خودمختار، قابلِ عمل اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے، جس کی سرحدیں جون 1967 سے پہلے کی بنیاد پر ہوں اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو۔
وزیراعظم نے لبنان اور شام کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی بھی مذمت کرتے ہوئے اسے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔
پاکستان کا انتخاب، جنگ نہیں امن
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ جنگ ایک انتخاب ہے، لیکن امن اس سے کہیں بہتر راستہ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے تصادم کے بجائے مذاکرات، دباؤ کے بجائے تعاون اور جنگ کے بجائے امن کا انتخاب کیا ہے۔
وزیراعظم کے مطابق عالمی امن، اقتصادی استحکام اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ تنازعات کو طاقت کے بجائے سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔
PM Shehbaz Sharif urges renewed Middle East diplomacy, open global trade routes and an independent Palestinian state in his UNGA 81st session address.



