Facebook YouTube TikTok WhatsApp
بین الاقوامی

چین پاکستان تعلقات کی 75ویں سالگرہ، بیجنگ میں عالمی سمپوزیم

✍️ Nazrban Balochistan 📅 07 Sep 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

تجارت، ٹیکنالوجی، سبز توانائی، زراعت اور انسانی ترقی میں تعاون مزید بڑھانے پر زور

بیجنگ، 7 ستمبر (اے پی پی): چین پاکستان سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر پیکنگ یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلیمی سمپوزیم منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک کے تقریباً 100 ماہرین تعلیم، محققین، سفارت کاروں اور کاروباری نمائندوں نے شرکت کی۔

22 ارب ڈالر سے زائد کے کاروباری معاہدے

چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے کہا کہ گزشتہ دو برس میں چینی اور پاکستانی کاروباری اداروں کے درمیان 22 ارب ڈالر سے زائد کے معاہدے ہوئے، جن میں تقریباً 7 ارب ڈالر کاروباری اداروں کی پاکستان منتقلی سے متعلق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی تعاون بھی بڑھ رہا ہے اور چین میں پاکستان اسٹڈیز کے چار نئے مراکز قائم کیے گئے ہیں، جہاں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی پر توجہ دی جا رہی ہے۔

سبز توانائی اور سی پیک میں تعاون

چینی ماہر ماؤ کیجی نے سبز توانائی کو معاشی اور توانائی کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا۔ چائنا تھری گورجز کے نمائندے لیو یونگ گانگ نے بتایا کہ کروٹ ہائیڈرو پاور منصوبہ اب تک 12 ارب کلو واٹ آور سے زائد بجلی پیدا کرچکا ہے جبکہ پاکستان میں کمپنی کے ونڈ منصوبوں کی مجموعی صلاحیت 150 میگاواٹ ہے۔

زراعت اور بلوچستان میں سرمایہ کاری کے مواقع

شینڈونگ یونیورسٹی کی ژانگ شولان نے کہا کہ چین کے مختلف صوبے پاکستان کے ساتھ کپاس، بیج، زرعی ٹیکنالوجی اور تربیت کے شعبوں میں تعاون بڑھا سکتے ہیں۔ بلوچستان میں کولڈ اسٹوریج، لاجسٹکس اور اعلیٰ قدر کی زرعی ویلیو چینز میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

تعلیم اور خواتین کو بااختیار بنانے پر توجہ

ماہرین نے کہا کہ سی پیک بنیادی ڈھانچے سے آگے بڑھ کر انسانی ترقی کا پلیٹ فارم بن رہا ہے۔ بلوچستان میں تعلیمی پروگراموں سے تقریباً 550 طالبات مستفید ہو رہی ہیں جبکہ گوادر ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ میں پہلے بیچ میں طالبات کی شرح 44 فیصد رہی۔

سمپوزیم میں مستقبل میں پاک چین تعاون کو تجارت اور سرمایہ کاری کے ساتھ تعلیم، ٹیکنالوجی، خواتین کی ترقی اور سماجی شعبوں تک وسعت دینے پر زور دیا گیا۔

China-Pakistan Relations Mark 75 Years as Beijing Symposium Highlights Trade, Technology and CPEC Cooperation

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں