صنفی مساوات کے فروغ کے لیے مستند اعداد و شمار، مؤثر پالیسی سازی اور اداروں کے درمیان تعاون ضروری ہے، مشیر ترقی نسواں
کوئٹہ: صوبائی مشیر برائے ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار، معاشی خودمختاری اور فیصلہ سازی کے عمل میں مساوی مواقع فراہم کرنا پائیدار سماجی و معاشی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ صنفی مساوات کے فروغ کے لیے محض اعلانات اور پالیسیوں کے بجائے مستند اعداد و شمار، شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور عملی اقدامات کو یقینی بنانا ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں بلوچستان کے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے لیے قومی صنفی مساوات کے اشاریوں کے فریم ورک (National Gender Parity Indicators Framework) پر منعقدہ دو روزہ تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
خواتین کی ترقی کے لیے قومی صنفی مساوات فریم ورک اہم قرار
ورکشاپ کا انعقاد اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اے، محکمہ ترقی نسواں حکومت بلوچستان، نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن اور یونیسیف کے اشتراک سے کیا گیا۔
ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ قومی صنفی مساوات کا فریم ورک خواتین اور مردوں کے درمیان مختلف شعبوں میں موجود فرق کی نشاندہی اور ترقیاتی پیش رفت کی پیمائش کا اہم ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے تعلیم، صحت، معاشی مواقع، سیاسی شرکت، قیادت اور فیصلہ سازی کے شعبوں میں صنفی مساوات کی صورتحال کا جائزہ لیا جاسکے گا۔
بلوچستان میں خواتین کی معاشی شمولیت کی شرح تشویشناک
مشیر ترقی نسواں نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کو درپیش سماجی، معاشی اور تعلیمی چیلنجز کے باعث قابل اعتماد اعداد و شمار کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
انہوں نے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے لیبر فورس سروے 2020-21 کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان میں 15 سال سے زائد عمر کی خواتین کی لیبر فورس میں شرکت کی شرح تقریباً 8 فیصد جبکہ مردوں کی شرح 43.6 فیصد ہے، جو خواتین کی معاشی شمولیت میں نمایاں فرق کو ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی صنفی مساوات رپورٹ 2024 بھی خواتین کے لیے روزگار اور معاشی سرگرمیوں کے مواقع بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔
خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے عملی اقدامات پر زور
ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے فنی تربیت، کاروباری مواقع، مالی وسائل تک رسائی، محفوظ ماحول اور خواتین کے لیے سازگار ادارہ جاتی سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صنفی بنیاد پر تشدد کی روک تھام، خواتین کے قانونی حقوق کا تحفظ، وراثت میں ان کا حق یقینی بنانا اور سرکاری و انتظامی اداروں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانا بھی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
اداروں کے درمیان تعاون اور استعداد کار میں اضافے کی ضرورت
مشیر ترقی نسواں نے کہا کہ متعلقہ سرکاری محکموں، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری سے خواتین کی ترقی اور بااختیاری کے اقدامات کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دو روزہ تربیتی ورکشاپ سے متعلقہ افسران اور اسٹیک ہولڈرز کی استعداد کار میں اضافہ ہوگا، جس سے صنفی اعداد و شمار جمع کرنے، ان کا تجزیہ کرنے اور قومی اشاریوں کے مطابق مرتب کرنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے یو این ایف پی اے، یونیسیف اور نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کے تعاون کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ ترقی نسواں بلوچستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ، صنفی مساوات اور معاشی و سماجی بااختیاری کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
Balochistan Adviser Rababa Khan Blidi Calls for Gender Equality and Women’s
Empowerment



