Facebook YouTube TikTok WhatsApp
صحت

ایبولا وائرس کے عالمی پھیلاؤ کا خدشہ، ماہرین صحت نے دنیا بھر کے ممالک کو خبردار کردیا

✍️ Nazrban Balochistan 📅 03 Nov 2026 ⏱️ 1 منٹ پڑھنے کا وقت

افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول کا عالمی سطح پر ہنگامی تیاریوں اور علاج کی سہولیات بہتر بنانے پر زور

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ایبولا وائرس کا جغرافیائی پھیلاؤ غیر معمولی صورتحال اختیار کرسکتا ہے، جس کے پیش نظر دنیا بھر کے ممالک کو وبا سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات اور طبی سہولیات کی تیاری یقینی بنانا ہوگی۔

افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر جین کاسیا نے یورپی ممالک سمیت عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ممالک نے بروقت احتیاطی اقدامات نہ کیے تو وہ بھی اس وبا سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے موجودہ صورتحال کا موازنہ کورونا وائرس کی وبا سے کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کے ابتدائی دنوں میں بھی کئی ممالک خود کو محفوظ سمجھتے تھے، تاہم بعد میں وائرس نے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ اور دیگر ممالک کو ایبولا کے ممکنہ بڑے مراکز بننے سے بچانے کے لیے پہلے سے تیاری کرنا ہوگی۔

ایبولا کے ہزاروں کیسز اور ہلاکتوں کی اطلاعات

رپورٹ کے مطابق ایبولا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 5 ہزار تک پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ وائرس پہلی مرتبہ مئی میں جمہوریہ کانگو میں سامنے آیا تھا اور اس کا پھیلاؤ زیادہ تر افریقی ممالک تک محدود رہا ہے۔

ڈاکٹر جین کاسیا نے زور دیا کہ صرف افریقی ممالک ہی نہیں بلکہ تمام براعظموں کے ممالک کو مریضوں کی تشخیص، علاج اور وبا کی روک تھام کے لیے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا چاہیے۔

یورپ میں وائرس کی منتقلی پر تشویش

ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ایبولا وائرس برطانیہ سمیت دیگر یورپی ممالک تک پہنچتا ہے تو ابتدائی کئی ہفتوں کے دوران اس کی تشخیص میں تاخیر ہوسکتی ہے۔

یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا کے پروفیسر برائے طب ڈاکٹر پال ہنٹر کے مطابق اس وبا کے دوران یورپ میں بھی کیسز سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔

یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک سوئس خاتون کے نائیجیریا میں ایبولا وائرس سے متاثر ہونے کی اطلاع ملی، جسے مغربی افریقہ میں ابتدائی علاج کے بعد مزید طبی سہولیات کے لیے جنیوا منتقل کیا گیا۔

ایبولا وائرس کی خطرناک قسم، 50 فیصد تک ہلاکتوں کا خدشہ

موجودہ وبا کی وجہ ایبولا وائرس کی ایک نایاب قسم بنڈی بگیو (Bundibugyo) بتائی جارہی ہے، جو متاثرہ افراد میں سے تقریباً 50 فیصد تک کے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایبولا وائرس کی مختلف اقسام کی علامات تقریباً ایک جیسی ہوتی ہیں۔ بیماری کا آغاز عموماً فلو جیسی علامات سے ہوتا ہے، جن میں تیز بخار، سر اور پٹھوں میں درد، الٹی اور اسہال شامل ہیں۔

شدید صورتوں میں جسم کے اندرونی حصوں میں خون بہنے، اہم اعضا کے ناکارہ ہونے اور موت کا خطرہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

ماہرین صحت نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ ایبولا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بروقت تشخیص، مؤثر علاج، طبی عملے کی تربیت اور بین الاقوامی تعاون کو یقینی بنایا جائے۔

Ebola Virus Global Spread Warning: Health Experts Urge Countries to Prepare

📤 خبر شیئر کریں

متعلقہ خبریں
↑