ستمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت صارفین پر 32 ارب 66 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا خدشہ
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ستمبر کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی فی یونٹ 2 روپے 56 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
درخواست منظور ہونے کی صورت میں ملک بھر کے بجلی صارفین پر مجموعی طور پر 32 ارب 66 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔
ستمبر میں بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافہ
سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ ستمبر میں بجلی کی اوسط فیول لاگت 10 روپے 2 پیسے فی یونٹ رہی، جبکہ اس کا تخمینہ 7 روپے 46 پیسے فی یونٹ لگایا گیا تھا۔
حکام کے مطابق ستمبر میں بجلی کی پیداوار پر مجموعی طور پر 127 ارب 87 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔
کوئلے، گیس اور ایل این جی سے بجلی کی پیداوار پر بھاری اخراجات
سی پی پی اے حکام کے مطابق مقامی کوئلے سے بجلی کی پیداوار پر 7 ارب 95 کروڑ، درآمدی کوئلے پر 37 ارب 14 کروڑ، ڈیزل پر 13 ارب 26 کروڑ، فرنس آئل پر 11 ارب 81 کروڑ، مقامی گیس پر 13 ارب 89 کروڑ جبکہ ایل این جی سے بجلی کی پیداوار پر 31 ارب 93 کروڑ روپے لاگت آئی۔
حکام نے بتایا کہ ستمبر کے دوران ڈسکوز نے مجموعی طور پر 12 ارب 76 کروڑ یونٹ بجلی فروخت کی۔
لوڈ مینجمنٹ سے اضافے کو محدود کیا گیا، پاور ڈویژن
پاور ڈویژن کا مؤقف تھا کہ ستمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک بڑھنے کا خدشہ تھا، تاہم دو گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ سمیت مختلف اقدامات کے ذریعے اسے 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ تک محدود رکھا گیا۔
واضح رہے کہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے ستمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست دائر کر رکھی ہے، جس پر نیپرا نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
NEPRA Reserves Verdict on Rs2.56 Per Unit Electricity Price Hike Request in Pakistan



